پشاور: پیر کے روز پشاور کے ایک ایڈیشنل سیشن جج نے فرمان علی المعروف تتلی نامی کم عمر خواجہ سرا کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم عامر کی قبل از گرفتاری ضمانت منسوخ کر دی۔
عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو پولیس کی حراست میں لیا جائے، حالانکہ مقتول کے اہلِ خانہ کی جانب سے صلح نامہ عدالت میں جمع کرایا گیا تھا۔
مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق تقریباً 16 سالہ تتلی ، عامر کے ساتھ گل بہار کے علاقے میں رہ رہی تھی۔ تعلقات خراب ہونے کے بعد عامر نے مبینہ طور پر تتلی کو اس کی بات نہ ماننے پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔بعد ازاں ملزم نے تتلی کے والد اور چچا سے صلح کی، جسے عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران مقتول کی گورو انمول کی جانب سے ایڈووکیٹ مہوش محب کاکاخیل اور ایڈووکیٹ نعمان محب کاکاخیل نے بطور وکلاء دلائل دیے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ خواجہ سرا برادری کے رواج کے مطابق تتلی نے اپنا خاندانی گھر چھوڑ کر اپنی گرو کی سرپرستی اختیار کر لی تھی، اس لیے قانونی طور پر انمول ہی اس مقدمے میں اصل مدعیہ ہیں۔
وکلاء نے عدالت کے سامنے مؤقف رکھا کہ عامر پر معمولی بات پر تتلی پر درجنوں گولیاں چلانے کا الزام ہے، جو کہ ایک سنگین اور سنگدلانہ جرم ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایشیا کپ کا سب سے سنسنی خیز لمحہ، پاکستان کے لیے آج کا میچ سب کچھ ہے
ایسے مقدمات میں صلح کو عدالت کی منظوری کے بغیر قابلِ قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔ مزید یہ کہ مقتول کے حیاتیاتی خاندان نے اس سے کبھی محبت یا وابستگی ظاہر نہیں کی، اس لیے ان کی جانب سے کی گئی صلح فطری نہیں بلکہ مشکوک ہے۔
وکلاء نے یہ بھی دلائل دیے کہ اس مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات فساد فی الارض اور غیرت کے نام پر قتل کا اطلاق ہوتا ہے، اور جرم کی نوعیت اتنی سنگین ہے کہ ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد صلح کو مسترد کر دیا اور ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت واپس لیتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ ملزم کو فوری طور پر حراست میں لیا جائے۔





