وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان حکومت اور افغان مہاجرین کے حوالے سے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی ہو رہی ہے، ہمارے شہری اور فوجی شہید ہو رہے ہیں، ایسے میں افغانستان کو دوست ملک کہنا خودفریبی کے مترادف ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جب وہ ایک سرکاری دورے پر افغانستان گئے تھے، تو افغان حکام نے اپنے شہریوں کو واپس لینے کے لیے خرچے کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا کہ خرچہ دینے کو تیار ہیں، مگر ہمیں گارنٹی چاہیے کہ یہ لوگ دوبارہ پاکستان نہیں آئیں گے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اگر ایک ہمسایہ ملک کی سرزمین سے پاکستان پر حملے ہوں، تو پھربھائی چارے کا تصور محض ایک منافقت بن کر رہ جاتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آگ کے گھر سے حملے ہوں اور ہم اسے بھائی کہیں تو یہ دوغلاپن ہوگا۔
وزیر دفاع نے افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی سے پاکستان کو سیکیورٹی، معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ پاکستان میں رہ کر نہ تو ہمارے پرچم کو سلام کرتے ہیں، نہ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں، تو ہم کیسے انہیں اپنا بھائی سمجھیں؟
یہ بھی پڑھیں: ڈیڈلائن سے پہلے رضا کارانہ طور پر پاکستان نہ چھوڑنے والے افغان مہاجرین کو بلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ افغانستان کے کچھ عناصر دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا ملک جنت نظیر بن چکا ہے، تو پھر اپنے لوگ واپس کیوں نہیں لے رہے؟ اگر وہاں سب کچھ بہتر ہو چکا ہے، تو انہیں اپنے شہریوں کی واپسی پر خوشی ہونی چاہیے۔





