مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی موجودہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے اور اس پر فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وفاق کو ’’جعلی حکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی غلط پالیسیوں کی قیمت خیبر پختونخوا کے عوام کو روزانہ کی بنیاد پر جنازے اٹھا کر چکانی پڑ رہی ہے۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان معصوم شہریوں، بچوں اور خواتین کو ہو رہا ہے، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے اس اہم ترین مسئلے پر مجرمانہ خاموشی اور سردمہری نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ قابلِ مذمت بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے سنجیدہ مذاکرات کے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ نہ وفاق خود اس ضمن میں کوئی اقدام کر رہا ہے اور نہ خیبر پختونخوا حکومت کو اجازت دے رہا ہے کہ وہ اس مسئلے پر خود عملی قدم اٹھا سکے۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ امن و امان کے قیام کے لیے نہایت سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں قبائلی عمائدین کے جرگے منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ مقامی سطح پر دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ان مخلصانہ کاوشوں کا ساتھ دے، ناکہ اس حساس مسئلے پر بھی سیاست کرے۔ “وفاقی حکومت اس وقت نہ صرف امن کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ گنڈاپور کی سنجیدہ کوششوں کو بھی سیاست کی نذر کر رہی ہے، جو قوم کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔





