پاکستان نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دہانی کرائی ہے کہ توانائی شعبے میں گردشی قرض چھ سال کے مقررہ ہدف سے پہلے ہی ختم کر دیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق یہ یقین دہانی پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری دوسرے ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات کے دوران کروائی گئی، جہاں پاور ڈویژن حکام نے توانائی شعبے میں اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
آئی ایم ایف کے اہم مطالبات:
گردشی قرض کے بہاؤ میں فوری کمی
بجلی چوری اور لائن لاسز روکنے کا مؤثر پلان
کیپیسٹی چارجز میں کمی کے لیے قابلِ عمل تجاویز
بجٹ سرپلس اہداف میں کمی کی وجوہات
نقصان میں چلنے والی کمپنیوں کی نجکاری یا انتظامی تبدیلی
آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ 635 ارب روپے کے تخمینے کے برعکس نقصانات کم ہوکر 397 ارب روپے تک آ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، معاہدے سے صارفین پر کوئی نیا مالی بوجھ نہیں پڑے گا، اور ادائیگیاں پہلے سے عائد 3.23 روپے فی یونٹ سرچارج سے کی جائیں گی۔
حکام نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ تین منافع بخش ڈسکوز کی نجکاری پر پیشرفت جاری ہے، جب کہ نجی پاور پلانٹس سے مذاکرات میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ نقصان میں چلنے والی کمپنیوں کا انتظامی کنٹرول نجی شعبے کو دینے کا پلان بھی زیر غور ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال میں صوبوں کا مجموعی بجٹ سرپلس 921 ارب روپے رہا، جو 1200 ارب کے ہدف سے کم ہے:
پنجاب: 348 ارب
سندھ: 283 ارب
خیبرپختونخوا: 176 ارب
بلوچستان: 114 ارب
خیبرپختونخوا حکومت 29 ستمبر اور یکم اکتوبر کو آئی ایم ایف مشن کو علیحدہ بریفنگ دے گی۔
نئے قرض معاہدے میں 660 ارب روپے کے پرانے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ اور 565 ارب روپے کی نئی فنانسنگ
شامل ہے، جو کہ مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنے گی۔





