خیبرپختونخوا حکومت نے پنجاب کی جانب سے گندم اور آٹے کی ترسیل پر مبینہ پابندی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ پابندی کے باعث صوبے میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ اور ممکنہ قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اس اقدام کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد کیس دائر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمہ خوراک کے مطابق خیبرپختونخوا کو گندم کی 80 فیصد سپلائی پنجاب سے ہوتی ہے، جو اس وقت متاثر ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں میں گندم کی ترسیل روکنے کے لیے چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔ جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ادھر پشاور کی آٹا مارکیٹ میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 100 سے 200 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف کاروباری نہیں بلکہ سیاسی اختلافات کا نتیجہ ہے، جس کا نقصان براہِ راست عوام کو ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ معاملہ سیاسی کشمکش کا شاخسانہ ہے اور عدالت سے ریلیف ملے یا نہ ملے، علی امین گنڈاپور کو سیاسی طور پر ضرور فائدہ ہو سکتا ہے۔





