ایشیائی منڈیوں میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں یہ گراوٹ عراق کے کردستان ریجن سے ترکیہ کو خام تیل کی برآمدات کے دوبارہ آغاز اور اوپیک پلس کی جانب سے نومبر میں پیداوار میں ممکنہ اضافے کے منصوبے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
کاروباری سرگرمیوں کے دوران،برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 34 سینٹ یا 0.5 فیصد کم ہو کر 69.79 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ کی قیمت 43 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے بعد 65.29 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیداوار میں اضافے کی خبروں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر کیا ہے اور منافع کی گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے۔ قلیل مدتی سخت معاشی حالات بھی تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
عراق کی وزارتِ تیل کے مطابق، ہفتے کے روز تقریباً ڈھائی سال کے تعطل کے بعد شمالی عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن سے پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی ترسیل ترکیہ کو بحال کی گئی۔ یہ پیش رفت دونوں فریقوں کے درمیان ایک عبوری معاہدے کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے، جس سے مارکیٹ میں تیل کی سپلائی بڑھنے کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔




