ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے ویزہ قوانین میں انقلابی تبدیلیاں کرتے ہوئے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے نئی اقسام کے ویزے متعارف کرا دیے ہیں، جن کا مقصد دنیا بھر سے ہنر مند، کاروباری، اور سیاحتی افراد کو مزید سہولیات فراہم کرنا ہے۔
اماراتی حکام کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے شعبے میں مہارت رکھنے والے ماہرین کے لیے اب خصوصی ویزہ دستیاب ہوگا، جس کے تحت انہیں بغیر کسی مخصوص اسپانسر کے قیام کی اجازت دی جائے گی۔
اسی طرح مختلف ثقافتی، تجارتی، کھیلوں یا تفریحی تقریبات میں شرکت کے خواہشمند افراد کے لیے ایونٹ ویزہ جاری کیا گیا ہے، جو مختصر مدت کے لیے مخصوص سرگرمیوں میں شمولیت کو ممکن بنائے گا۔
جو سیاح کروز شپ یا تفریحی جہاز کے ذریعے یو اے ای آنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ملٹی پل انٹری ویزہ جاری کیا جائے گا، تاکہ وہ اپنے سفر کے دوران متعدد بار ملک میں داخل ہو سکیں۔
جنگ زدہ یا قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک کے شہری اب یو اے ای میں اسپانسر کے بغیر ایک سال تک رہائش حاصل کر سکیں گے۔ اسی طرح بیوہ خواتین یا طلاق یافتہ خواتین کو بھی اسپانسر کے بغیر رہائشی پرمٹ دیے جائیں گے۔
یو اے ای میں دوستوں کو وزٹ ویزہ پر بلانے کے لیے بھی ضابطہ لاگو کر دیا گیا ہے۔ اب اسپانسر کرنے والے کی کم از کم ماہانہ آمدنی 15 ہزار درہم ہونی چاہیے، تاکہ وہ دوست کو بلانے کا اہل ہو۔
یہ بھی پڑھیں : بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل سے منتقل کیے جانےکا امکان
کاروباری افراد کو مالی اسناد پیش کرنے پر بزنس ویزہ جاری کیا جائے گا، چاہے ان کا کاروبار متحدہ عرب امارات میں ہو یا بیرون ملک۔
اسی طرح ڈرائیورز کے لیے بھی نیا اصول لاگو ہو گیا ہے، جس کے مطابق صرف رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ ٹرانسپورٹ کمپنیاں ہی انہیں اسپانسر کر سکیں گی۔
حکام کے مطابق یہ نئی پالیسیز عالمی معیار کے مطابق تیار کی گئی ہیں، تاکہ یو اے ای کو ایک عالمی معاشی، سیاحتی اور پیشہ ورانہ مرکز کے طور پر مزید مضبوط کیا جا سکے۔





