یو اے ای کے ویزا قوانین میں بڑی تبدیلی، ویزا کی چار نئی کیٹیگریز متعارف

دبئی: متحدہ عرب امارات نے ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے وزٹ ویزا کی چار نئی اقسام متعارف کرادی ہیں۔ ان ویزوں کا مقصد مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین، سیاحوں اور پیشہ ور افراد کو امارات کی طرف متوجہ کرنا ہے۔

یہ تبدیلیاں فیڈرل اتھارٹی فار آئیڈنٹیٹی، سٹیزن شپ، کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی کی جانب سے کی گئی ہیں جو ملک کی اوپن ڈور پالیسی اور عالمی ٹیلنٹ کو متوجہ کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

نئی کیٹیگریز میں مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے خصوصی ویزا شامل ہے جو سنگل یا ملٹی پل انٹری کی بنیاد پر جاری کیا جائے گا، تاہم اس کے لیے کسی مستند ادارے کی جانب سے تصدیق درکار ہوگی۔ تفریحی صنعت سے وابستہ افراد کو بھی عارضی بنیاد پر شرکت کی اجازت دی جائے گی، جبکہ کانفرنسوں، نمائشوں، فیسٹیولز اور دیگر تقریبات میں شرکت کے خواہش مند افراد کے لیے بھی وزٹ ویزا کی سہولت دی جائے گی، جس کے لیے میزبان ادارے کی تصدیق لازمی ہوگی۔

کروز شپ یا یاٹ کے ذریعے آنے والے سیاحوں کو بھی ملٹی پل انٹری کی سہولت فراہم کی جائے گی، بشرطیکہ ان کے سفر کا روٹ یو اے ای کی بندرگاہوں پر مشتمل ہو اور اسپانسر بھی موجود ہو۔

حکام کے مطابق ایک نئی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائشی ویزے کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے، جو ان افراد کے لیے ہے جو جنگ یا قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ویزا ایک سال کے لیے جاری ہوگا، جو قابل توسیع ہے تاہم حامل ویزا شخص کے ملک سے نکلنے کی صورت میں یہ خود بخود منسوخ ہو جائے گا۔

نئے قوانین میں بیواؤں اور مطلقہ خواتین کے لیے بھی ایک سالہ رہائش کا پرمٹ شامل کیا گیا ہے، جو مخصوص شرائط کے ساتھ مزید ایک سال کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اماراتی شوہر کی بیوہ یا مطلقہ خواتین بغیر بچوں کے چھ ماہ کے اندر درخواست جمع کروا سکیں گی، جبکہ غیر اماراتی شوہر کی بیوہ یا مطلقہ خواتین اگر بچوں کی کفالت کر رہی ہوں اور امارات میں مقیم ہوں، تو وہ بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔

قریبی رشتہ داروں یا دوستوں کو بلانے کے لیے اسپانسر کی کم از کم آمدنی کی شرائط بھی مقرر کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کاروباری امکانات کی تلاش کے لیے بزنس ایکسپلوریشن ویزا متعارف کرایا گیا ہے، جس کے لیے درخواست دہندہ کو مالی استحکام یا پیشہ ورانہ سرگرمی کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ ٹرک ڈرائیورز کے لیے بھی نیا ویزا جاری کیا جائے گا جو کہ کسی لائسنس یافتہ کمپنی کی اسپانسرشپ، انشورنس اور فیس کی ادائیگی سے مشروط ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ کے حوالے سے ایف بی آر کا اہم بیان

متحدہ عرب امارات کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد دنیا بھر سے باصلاحیت افراد اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے تاکہ ملکی معیشت کو مزید وسعت دی جا سکے۔

Scroll to Top