پشاور کی مارکیٹوں میں خشک میوہ جات کی بہار، مگر قیمتوں نے ہوش اُڑا دیے

پشاور: موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں خشک میوہ جات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سردی شروع ہوتے ہی خشک میوہ جات کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے ساتھ ہی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

پشاور میں چلغوزے کی فی کلو قیمت 10 سے 12 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے، جبکہ ایک دانہ چلغوزہ 200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جو عوام کے لیے ناقابلِ یقین حد تک مہنگا ہو چکا ہے۔

دیگر میوہ جات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، مونگ پھلی 600 سے 800 روپے فی کلو، بادام 3 ہزار روپے فی کلو، پستہ 4 ہزار روپے فی کلو

مارکیٹ ذرائع کے مطابق موسم سرما میں سب سے زیادہ خرید و فروخت مونگ پھلی کی ہو رہی ہے، جو نسبتاً سستا اور ہر طبقے کی دسترس میں رہتا ہے۔

عالمی سطح پر خشک میوہ جات کی سالانہ طلب 50 لاکھ ٹن کے قریب ہے، جبکہ پاکستان سے 10 لاکھ ٹن خشک میوہ جات برآمد کیے جاتے ہیں۔ ان میوہ جات کا زیادہ تر حصہ سوات، چترال اور گلگت بلتستان جیسے پہاڑی علاقوں سے آتا ہے۔

پشاور میں فروخت ہونے والے خشک میوہ جات میں اکثریت اسمگل شدہ ہوتی ہے، جو ایران، افغانستان اور بھارت سے غیر قانونی طریقے سے درآمد کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق شہید اور میجر طیب راحت شہید کی نماز جنازہ ادا،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی شرکت

کارخانو مارکیٹ، پیپلز منڈی اور اشرف روڈ خشک میوہ جات کے بڑے تجارتی مراکز ہیں، جہاں ان اسمگل شدہ اشیاء کی فروخت معمول کی بات بن چکی ہے۔

تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود انتظامیہ کی خاموشی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، جو نہ صرف قانونی تجارت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ مقامی پیداوار اور معیشت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

Scroll to Top