اسلام آباد : وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما سہیل آفریدی کے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ بننے کی راہ میں قانونی رکاوٹیں حائل ہیں۔
بدھ کے روز پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے موجودہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو ہٹائے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پارٹی کی جانب سے سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کر دیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی موجودہ صوبائی حکومت میں پہلے وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ کابینہ میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد انہیں وزیر برائے ہائر ایجوکیشن بنایا گیا تھا۔
نامزدگی کے فوری بعد وفاقی وزیر بیرسٹر عقیل ملک نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کو این سی سی آئی اے (نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی) کی جانب سے نوٹس جاری ہو چکا ہے، جس کی وجہ ان کی اسمبلی تقریر کی سوشل میڈیا پر تشہیر بنی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قانونی معاملہ ان کے وزیراعلیٰ بننے میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔
دوسری جانب پروگرام میں شریک تحریک انصاف کے رہنما اور ماہر قانون سینیٹر علی ظفر نے یہ مؤقف مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور کی مارکیٹوں میں خشک میوہ جات کی بہار، مگر قیمتوں نے ہوش اُڑا دیے
ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں کی گئی تقریر کی تشہیر پر کسی رکن اسمبلی کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی، کیونکہ آئین کی رو سے ایسی تقاریر کو استثنیٰ حاصل ہے۔
علی ظفر نے واضح کیا کہ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے پر کوئی آئینی یا قانونی قدغن نہیں، اور وہ با آسانی اس منصب کا حلف اٹھا سکتے ہیں۔





