اسلام آباد : ملک بھر میں ٹماٹر کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔
مختلف شہروں میں ٹماٹر 350 سے 400 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہونے لگا، جب کہ ایک ماہ قبل یہی ٹماٹر 20 روپے فی کلو دستیاب تھا۔
روزمرہ کے کھانوں کا لازمی جزو سمجھے جانے والے ٹماٹر کی اچانک بڑھتی قیمتوں نے نہ صرف صارفین کو پریشان کر دیا ہے بلکہ ہوٹل مالکان اور سبزی فروشوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ سبزی فروشوں کی من مانیاں جاری ہیں جبکہ انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حالیہ سیلاب کے باعث ٹماٹر کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں ان علاقوں سے مارکیٹ میں ٹماٹر کی فراہمی رک چکی ہے۔
اب پورے ملک میں صرف بلوچستان واحد ذریعہ ہے جہاں سے ٹماٹر کی ترسیل ہو رہی ہے۔
تاہم حیرت انگیز طور پر کوئٹہ جیسے شہروں میں بھی ٹماٹر 300 سے 350 روپے فی کلو کے نرخ پر فروخت ہو رہا ہے، حالانکہ وہاں وافر مقدار میں پیداوار موجود ہے۔
سبزی فروشوں کا کہنا ہے کہ عام طور پر اس موسم میں ٹماٹر کی قیمت 30 سے 40 روپے فی کلو ہوتی ہے، لیکن پیداوار میں کمی اور رسد متاثر ہونے کے باعث قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو آج غزہ جنگ بندی ممکن ہے، ترک وزیر خارجہ
ذرائع کے مطابق سندھ میں ٹماٹر کی نئی فصل آنے میں تقریباً 2 ماہ لگیں گے، جس کے باعث قیمتوں میں فوری کمی کا کوئی امکان نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو ٹماٹر کے ساتھ دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
عوامی شکایات کے باوجود پرائس کنٹرول کمیٹیاں قیمتوں کو قابو میں لانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور منافع خور کھلے عام عوام کو لوٹ رہے ہیں۔





