اسلام آباد: رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور نے خود بتایا کہ عمران خان سے گزشتہ ملاقات میں انہوں نے گلہ کیا کہ سوشل میڈیا اور گھر کے افراد کی رکاوٹ کی وجہ سے وہ اگلے ڈیڑھ سال میں عمران خان کو رہا ہوتے نہیں دیکھ رہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ اس جواب کے بعد شاید عمران خان نے سوچا کہ اب انہیں علی امین کی ضرورت نہیں رہی۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ آپریشن پر علی امین گنڈا پور کی رائے بانی پی ٹی آئی کی خواہش سے مختلف تھی۔
انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے جیل جانے کا الزام بھی علی امین پر لگایا گیا۔ جنید اکبر، اسد قیصر اور شہرام ترکئی کے ساتھ علی امین کے اختلافات تھے اور آخر میں علی امین کا علیمہ خان سے بھی اختلاف ہوگیا۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے انہیں بتایا تھا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ کی مداخلت کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ سال ڈیڑھ سال رہائی نظر نہیں آرہی، شاید اسی وجہ سے بانی پی ٹی آئی نے سوچا کہ اب علی امین کی ضرورت نہیں رہی۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ بشری بی بی کی جیل جانے پر کہا جاتا تھا کہ اس کے پیچھے علی امین گنڈا پور کا ہاتھ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹماٹر کی قیمتوں نے عوام کے ہوش اُڑا دیے، 400 روپے فی کلو تک پہنچ گئی
انہوں نے کہا کہ 24 نومبر کے بعد انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ علی امین کی سیاسی دن گنے جا چکے ہیں۔
شیر افضل مروت نے یہ بھی بتایا کہ پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ بھی علی امین گنڈا پور کے اختلافات تھے، جس نے پارٹی کے اندر انتشار کو بڑھایا۔





