پی ٹی آئی کے اندر اختلافات شدت اختیار کرگئے، سہیل آفریدی کی نامزدگی پر تحفظات، شیر افضل مروت کا دعویٰ

رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں خیبر پختونخوا کے نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نامزدگی پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اور پارٹی کے طاقتور گروپس ان کی جگہ کسی اور امیدوار کو لانے کے خواہاں ہیں۔

نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز) سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ سہیل آفریدی آنکھیں بند کر کے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے پارٹی کے چند مضبوط دھڑے انہیں وزیراعلیٰ بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ علی امین گنڈا پور اور بانی پی ٹی آئی کے درمیان آپریشن کے حوالے سے رائے مختلف تھی، اور اسی اختلاف رائے نے دونوں کے درمیان فاصلے پیدا کیے۔ مروت کے مطابق، بشریٰ بی بی کے جیل جانے کا الزام بھی علی امین پر ڈالا گیا، جب کہ پارٹی کے اہم رہنما جیسے کہ جنید اکبر، اسد قیصر اور شہرام ترکئی سے بھی ان کے تعلقات کشیدہ تھے۔

شیر افضل مروت نے مزید انکشاف کیا کہ علی امین گنڈاپور کا بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان سے بھی اختلاف ہوا، جس کے بعد انہوں نے پارٹی سربراہ سے اہل خانہ کی مداخلت پر شکایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ علی امین نے بانی پی ٹی آئی کو یہ پیغام دیا تھا کہ انہیں ایک سے ڈیڑھ سال تک رہائی ممکن نظر نہیں آتی، شاید یہی بات ان کی پارٹی میں اہمیت کم ہونے کا باعث بنی۔

Scroll to Top