کیا ٹرمپ کو نوبل امن انعام ملے گا یا یہ خواب ادھورا رہے گا؟

نوبل انعام برائے امن کا اعلان آج ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں کیا جائے گا۔

 رواں برس امن نوبل انعام کے لیے ریکارڈ 338 امیدواروں کو نامزد کیا گیا ہے جن میں دنیا کی ممتاز شخصیات، ادارے اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن شامل ہیں۔

یہ انعام ہر سال ان افراد یا تنظیموں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے عالمی امن، انسانی حقوق، بین الاقوامی تعاون یا جنگوں کے خاتمے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہو۔

نامزدگیوں کی فہرست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا اور ایکس کے مالک ایلون مسک، کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس، ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم اور انسانی حقوق کی علمبردار فرانسیسکا البا شامل ہیں، ان کے علاوہ متعدد غیر سرکاری تنظیمیں اور فلاحی ادارے بھی امیدواروں میں شامل ہیں۔

رواں سال فلسطین سے کئی شخصیات اور تنظیموں کو بھی نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے، ان میں سماجی کارکن عیسیٰ عمرو، ماحولیاتی اور تعلیمی شعبے سے وابستہ مازن قمصیہ اور اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والی کمسن فلسطینی بچی ہند رجب کا نام نمایاں ہے۔

غزہ کے تمام بچے، فلسطینی خواتین کی نمائندہ تنظیم اور متعدد فلسطینی ادارے بھی اس عالمی اعزاز کے لیے نامزد کیے گئے ہیں، یہ نامزدگیاں اسرائیل فلسطین تنازع اور غزہ کی تازہ ترین صورتحال کے تناظر میں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزدگی بھی خبروں میں خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے، ٹرمپ خود کو صدر برائے امن قرار دیتے رہے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی قیادت میں پاکستان، بھارت، افغانستان، شام، شمالی کوریا، عراق اور اسرائیل جیسے ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی آئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کو نوبل انعام کا حقدار سمجھتے ہیں، ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ نوبل کمیٹی متعصب ہے اور انہیں یہ اعزاز نہیں دے گی۔

یہ بھی پڑھیں: معاہدے کے بعد نیتن یاہو کا ٹرمپ کو فون، ایک دوسرے کو مبارکباد دی

اب تک صرف چار امریکی صدور کو امن کا نوبل انعام دیا جا چکا ہے جن میں تھیوڈور روزویلٹ، ووڈرو ولسن، جمی کارٹر اور باراک اوباما شامل ہیں۔

Scroll to Top