خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب، اسمبلی کا اجلاس شروع، اپوزیشن کا واک آؤٹ

خیبرپختونخوا اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے اجلاس شروع ہو گیا ہے، تاہم اپوزیشن نے اجلاس کے دوران شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللّٰہ نے کہا کہ ’’وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ تاحال منظور نہیں ہوا، اور ایک فعال وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب آئینی اور قانونی طور پر ممکن نہیں۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ‘‘یہ عمل غیر آئینی ہے، اور ہم اس کا حصہ نہیں بن سکتے۔

ڈاکٹر عباد کے مطابق علی امین گنڈاپور دو مرتبہ استعفیٰ دے چکے ہیں، تاہم جب تک استعفیٰ باضابطہ طور پر منظور نہیں ہوتا اور کابینہ ڈی نوٹیفائی نہیں ہوتی، نیا انتخاب غیر قانونی تصور ہوگا۔

دوسری جانب جب علی امین گنڈاپور ایوان میں پہنچے تو حکومتی اراکین نے کھڑے ہو کر ان کا پرجوش استقبال کیا۔ ایوان میں جوش و خروش کی فضا دیکھی گئی اور حکومتی بینچوں سے نعروں کی گونج سنائی دی۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے چار امیدوار میدان میں ہیں:
سہیل آفریدی (پاکستان تحریک انصاف)
مولانا لطف الرحمان (جمعیت علمائے اسلام ف)
سردار شاہ جہان یوسف (مسلم لیگ ن)
ارباب زرک خان (پاکستان پیپلز پارٹی)
خیبرپختونخوا اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد 145 ہے، جن میں سے 93 حکومتی اتحاد سے اور 52 اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے لیے امیدوار کو کم از کم 73 ووٹ درکار ہوں گے۔

اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد صورتحال مزید سیاسی تنازع کی جانب بڑھ سکتی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے انتخابی عمل مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

Scroll to Top