افغان طالبان اور بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے باعث پاک افغان سرحد کو دو روز سے بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افغان مہاجرین کی وطن واپسی عارضی طور پر معطل ہو گئی ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے حکام کے مطابق، ہفتے کی شب سرحدی کشیدگی کے بعد چمن اور قلعہ سیف اللہ میں بادینی بارڈر جبکہ چاغی کے مقام براہمچہ پر سرحد کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ہزاروں افغان مہاجرین پھنس گئےسرحد بند ہونے کے باعث پانچ ہزار سے زائد افغان مہاجرین چمن اور قلعہ سیف اللہ میں سرحد کھلنے کے منتظر ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ’’جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے اور سرحد دوبارہ کھولی جائے گی، افغان مہاجرین کو ان کے وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔‘‘
حملوں کے پس منظر میں بڑھتی کشیدگی زرائع کے مطابق حالیہ کشیدگی افغان طالبان اور بھارت کی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں بارڈر سیکیورٹی فورسز نے اضافی اقدامات کیے ہیں۔
ادھر سرحدی بندش کے باعث تجارت، نقل و حمل اور انسانی امداد کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، جبکہ مقامی افراد اور تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔





