امریکی صدر ٹرمپ ناراض، پوٹن سے ملاقات کیوں رک گئی؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے ناراض ہوگے، انہوں نے کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے اس وقت تک ملاقات نہیں کریں گے جب تک انہیں یہ یقین نہ ہو کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے کوئی معاہدہ ممکن ہے۔

صدر ٹرمپ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ ہم ایک معاہدہ کرنے والے ہیں میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنے والا، انہوں نے مزید کہا کہ روسی صدر سے ان کے ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں لیکن موجودہ صورتحال مایوس کن ہے۔

امریکی صدر نے 22 اکتوبر 2025 کو اعلان کیا تھا کہ وہ متوقع سربراہی اجلاس منسوخ کر رہے ہیں کیونکہ روس نے فوری جنگ بندی کے لیے کوئی آمادگی ظاہر نہیں کی اور مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی پوتن سے بات چیت ہمیشہ اچھی رہی ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔

یورپی رہنماؤں نے ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے موجودہ محاذی لائنوں کو بنیاد بنائیں اور روس سے ٹھوس پیش رفت حاصل کریں اور بغیر کسی معاہدے کے پوتن سے ملاقات نہ کریں۔

روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد عالمی برادری نے جنگ کے خاتمے کے لیے متعدد سفارتی کوششیں کیں۔

حال ہی میں روسی صدر کے خصوصی نمائندے کرل دمتریو نے واشنگٹن میں کہا کہ امریکا، یوکرین اور روس ایک سفارتی حل کے قریب ہیں۔

انہوں نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے جنگ بندی کے لیے موجودہ محاذی لائنوں پر بات چیت کی آمادگی کا ذکر کیا جو پہلے مکمل روسی انخلا کا مطالبہ کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ طیارے سے نہ اترے، امیرِ قطر اور وزیرِاعظم کو ملاقات کے لیے طیارے میں بلا لیا

ٹرمپ کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ یوکرین کے مسئلے پر روس کے ساتھ بامقصد مذاکرات کے خواہاں ہیں اور بغیر کسی ٹھوس معاہدے کے پوتن سے ملاقات کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔

اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین جنگ کے حوالے سے سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔

Scroll to Top