لاہور سائنس میلہ 2025 اختتام پذیر، ٹیکنالوجی اور زرعی ایجادات کی نمائش لوگوں کی توجہ کا مرکز

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے اشراک سے لاہور سائنس میلہ 2025 اختتام پذیر ہو گیا جس میں ٹیکنالوجی اور زرعی ایجادات کی نمائش لوگوں کی توجہ کا مرکز رہی۔

لاہور سائنس میلہ 2025 کے اختتام پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ترجمان ڈاکٹر راشد محمود نے کہا ہے کہ ایسے سائنس میلے ملک کے تمام بڑے شہروں اور خاص طور پر اسلام آباد میں بھی ہر سال منعقد ہونے چاہئیں۔

ڈاکٹر محمود نے کہا کہ اس سال سائنس میلہ میں لوگوں کی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ شرکت بہت حوصلہ افزا رہی اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ نوجوانوں میں تجسس اور علم کی لگن برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سائنس میلے نوجوان ذہنوں میں سائنسی تحقیق کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں اور علم کی پیاس دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

دو روزہ میلے کے دوران پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے معدنیات کی تلاش، بجلی کی پیداوار، زرعی اصلاحات اور صحت کے شعبوں میں اپنے اقدامات کو سٹالز کے ذریعے نمائش کے لیے پیش کیا۔

سٹالز میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کا ماڈل، مقامی طور پر تیار ویکسینز، کینسر کی تشخیص کے لیے کٹس، نیوکلیئر میڈیسن، منرلز اور زرعی مصنوعات مرکزی توجہ کا مرکز رہیں۔

میلے میں انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ 2025 جیتنے والے طلباء بھی پی اے ای سی کے اسٹال پر موجود رہے، انہوں نے شرکاء سے ملاقات کی اور قومی سطح پر حاصل شدہ کامیابیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی اے ای سی کے اشتراک سے لاہور میں 2 روزہ سائنس میلہ، عوام کے لیے مفت داخلہ

لاہور سائنس میلے میں تقریباً 100,000 شرکاء نے مختلف سائنسی اور ٹیکنالوجی کی نمائش گاہوں، حیرت انگیز مظاہروں، لیزر لائٹ شو، دلچسپ انڈور کھیلوں، معلوماتی ورکشاپس اور آڈیٹوریم لیکچرز سے بھرپور استفادہ حاصل کیا۔

گزشتہ برسوں میں لاہور سائنس میلہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ پچھلا میلہ ایک لاکھ سے زائد شرکاء کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہا۔

Scroll to Top