عوامی نیشنل پارٹی ضلع چارسدہ کے صدر شکیل بشیر خان عمرزئی نے کہا ہے کہ قانون اور آئین سب کے لیے برابر ہونے چاہییں یہ صرف غریبوں کے لیے مخصوص نہیں ہونے چاہییں۔
شکیل بشیر خان عمرزئی نے کہا کہ اے این پی روزِ اول سے سیاست میں گالی گلوچ، بدتہذیبی اور بے ہودہ زبان کے استعمال کی مخالف رہی ہے مگر افسوس ہے کہ چند روز قبل وزیرِاعلیٰ کی چارسدہ آمد کے موقع پر ایک ڈی ایس پی کے سامنے اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں چارسدہ کے ایک رکنِ صوبائی اسمبلی نے ڈی پی او چارسدہ اور پولیس کو سرِعام گالیاں دیں اور انتہائی نامناسب زبان استعمال کی۔
شکیل بشیر خان نے سوال اٹھایا کہ کیا اس واقعے پر کوئی عملی کارروائی ہوگی یا یہ معاملہ صرف روزنامچے تک محدود رہے گا؟
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی عام شہری سوشل میڈیا پر پولیس کو اپنی ڈیوٹی یاد دلائے تو اس کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرلی جاتی ہے، گرفتار کیا جاتا ہے اور اس کی تصاویر وائرل کردی جاتی ہیں لیکن جب عوام کے سامنے پولیس کو گالیاں دی جاتی ہیں تو نہ قانون یاد رہتا ہے اور نہ آئین۔
اے این پی رہنما نے کہا کہ اگر آئندہ چارسدہ میں پولیس نے کسی عام شہری کے خلاف سوشل میڈیا پر ایف آئی آر درج کی تو عوامی نیشنل پارٹی چارسدہ پولیس کے خلاف عملی میدان میں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلی سہیل آفریدی کا چارسدہ سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کےلیے تحریک کے آغاز کا اعلان
شکیل بشیر خان عمرزئی نے مزید کہا کہ اے این پی اداروں کے احترام پر یقین رکھتی ہے تاہم قانون کی عملداری سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے، طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔





