پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چودھری کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ سیاسی ماحول میں سب سے بڑی ضرورت کشیدگی کو کم کرنا ہے جب تک فریق ایک دوسرے کے لیے لچک نہیں دکھائیں گے سیاسی درجہ حرارت نیچے نہیں آئے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں فواد چودھری نے کہا کہ حکومت کو مصالحت کی سمت ایک قدم بڑھانا ہوگا جبکہ پی ٹی آئی کو بھی پیچھے ہٹ کر مذاکرات کا راستہ کھولنا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ حالیہ عالمی سطح پر پاکستان نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، سیاسی بے یقینی کے باعث ان کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ پائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک سیاست میں تناؤ کم نہیں ہوتا، معیشت اور جمہوریت دونوں متاثر رہیں گے، کوشش ہے کہ ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس میں کم از کم مکالمہ شروع ہو سکے۔
فواد چودھری نے کاہ کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی، اعجاز چودھری اور دیگر سے ملاقات میں اسی موقف کا اظہار کیا گیا اور خوشی ہے کہ وہ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ سیاسی درجہ حرارت میں نرمی آنی چاہیے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں، آئندہ ہفتے مسلم لیگ (ن) کے سینئر وزراء اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔
فواد چودھری کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی ماحول کی بہتری اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی قیدیوں کو ریلیف دیا جائے، انہوں نے شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ اور دیگر رہنماؤں کے مقدمات میں انصاف کی فراہمی پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی ہماری اولین ترجیح ہے جبکہ حال ہی میں عمران اسماعیل، محمود مولوی اور میں رہا ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی درجہ حرارت کم کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، فواد چوہدری
امید ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کی مزید سینئر قیادت بھی متحرک نظر آئے گی اور سیاسی فضا میں بہتری آئے گی۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل لاہور میں شاہ محمود قریشی سے سابق پی ٹی آئی رہنماؤں کی اہم ملاقات ہوئی تھی۔





