امریکا میں ہونے والی ایک تازہ تحقیق سے یہ تشویشناک پہلو سامنے آیا ہے کہ وہ خواتین جو حمل کے دوران کورونا وائرس کا شکار ہوئیں ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں آٹزم یا دماغی نشوونما سے متعلق مسائل کا خطرہ زیادہ پایا گیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق میساچیوسٹس جنرل اسپتال کے ماہرین نے مارچ 2020 سے مئی 2021 کے درمیان میس جنرل بریگھم ہیلتھ سسٹم میں پیدا ہونے والے 18 ہزار 336 بچوں کے طبی ریکارڈز کا تفصیلی تجزیہ کیا۔
اس دوران ماؤں کے کووڈ 19 ٹیسٹ اور بچوں کی تین سال کی عمر تک دماغی نشوونما کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا گیا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن خواتین کو دورانِ حمل کورونا ہوا اُن کے بچوں میں آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر یعنی بات چیت میں دشواری، حرکات و سکنات میں کمزوری یا دیگر دماغی امراض کے امکانات 16.3 فیصد تک دیکھے گئے جبکہ کورونا سے محفوظ ماؤں کے بچوں میں یہ شرح 9.7 فیصد تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق تمام دیگر عوامل جیسے ماں کی عمر، سماجی پس منظر اور تمباکو نوشی کو مدِنظر رکھنے کے بعد بھی کورونا سے متاثرہ خواتین کے بچوں میں آٹزم کا خطرہ 1.3 گنا زیادہ ثابت ہوا، مجموعی طور پر یہ امکان عام خواتین کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی فیصد تک بڑھا ہوا تھا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ خطرہ خاص طور پر لڑکوں میں زیادہ نظر آیا جبکہ اگر انفیکشن حمل کے آخری تین مہینوں میں ہوا تو آٹزم کا امکان سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق حمل کی آخری سہ ماہی بچے کے دماغی ارتقا کا نہایت اہم مرحلہ ہوتا ہے اور اس دوران ماں کے جسم میں سوزش سے بچے کے دماغ پر اثر پڑ سکتا ہے۔
امریکی ادارہ برائے امراضِ کنٹرول و بچاؤ کے اعداد و شمار بھی بچوں میں آٹزم کے بڑھتے رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں صحت کارڈ پر معطل طبی سہولیات بحال
رپورٹ کے مطابق 2022 میں ہر 31 میں سے ایک بچہ 8 سال کی عمر تک آٹزم کا شکار پایا گیا جو 2020 کے مقابلے میں واضح اضافہ ہے۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹزم کے بڑھتے کیسز کا تعلق لازمی طور پر کسی بیماری یا وبا سے نہیں بلکہ اب تشخیص اور اسکریننگ کے بہتر نظام کی بدولت زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں۔





