’’پاک افغان مذاکرات ناکام، مفاہمت ختم ‘‘وزیر دفاع خواجہ آصف کا بڑا اعلان

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں مکمل ڈیڈ لاک ہے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ مذاکرات کے اگلے دور کا اب کوئی پروگرام نہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے  کہا کہ ترکیے اور قطرکے شکر گزار ہیں، خلوص کے ساتھ ثالثوں کا کردار ادا کیا، ترکیے اور قطرپاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔

وزیر دفاع نےبتایا کہ افغان وفد کہہ رہا تھا کہ ان کی بات کا زبانی اعتبار کیا جائے جس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی مذاکرات کے دوران کی گئی حتمی بات تحریری طور پر کی جاتی ہے۔ مذاکرات میں افغان وفد ہمارے موقف سے متفق تھا مگر لکھنے پر راضی نہ تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اطلاعات عطاء تارڑنے مذاکرات کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے ثالثی کے لیے ترکی اور قطر کا شکریہ ادا کیا تاہم پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی ذمہ داری افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آرٹیکل 243 پر حکومت کی حمایت کریں گے، بلاول بھٹو زرداری

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان دوحہ امن معاہدے 2021 کے تحت اپنے بین الاقوامی، علاقائی اور دوطرفہ وعدوں کو اب تک پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے مذید کہاکہ پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ افغان عوام کے لیے خیر سگالی کا جذبہ رکھتا ہے اور ان کے لیے ایک پر امن مستقبل کا خواہش مند ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان طالبان حکومت کے ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کرے گا جو افغان عوام یا پڑوسی ممالک کے مفاد میں نہ ہوں، اور اپنی عوام اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

Scroll to Top