وزیراعظم نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے آج کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج صبح 10 بجے طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کریں گے۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی آئینی ترامیم سے متعلق تجاویز کو منظور کر لیا گیا ہے اور اجلاس میں ترمیم کے مسودے کی منظوری دی جائے گی۔

دوسری جانب اپوزیشن نے 27 ویں ترمیم کا مسودہ مسترد کر دیا ہے۔ سینیٹ کی اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعتیں قانون سازی کو بلڈوز کر رہی ہیں اور آئینی ترمیم کا مسودہ اپوزیشن سے چھپایا جا رہا ہے۔

قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اجلاس میں آئینی ترمیم کے تین نکات پر اتفاق ہوا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آرٹیکل 243 میں ترمیم پر پارٹی حمایت کرے گی اور آئینی عدالتیں بننی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے دیگر معاملات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے فنڈز بڑھائے جا سکتے ہیں، کم نہیں کیے جا سکتے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ 27 ویں ترمیم کے پراسس میں دیگر شقوں پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی، 27 ویں ترمیم کی منظوری موخر

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز  27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے طلب کیا گیا وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کی ملتوی ہونے کی وجہ وزیر اعظم کی مصروفیات ہیں۔ کابینہ اجلاس میں ترمیم کی منظوری دی جانی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ترمیم سے متعلق اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے وفد سے ملاقات میں وزیر اعظم نے یقین دلایا کہ بلدیاتی مسودہ 27 ویں ترمیم میں شامل کیا جائے گا، جس کے بعد متحدہ نے بھی ترمیم کی حمایت کر دی۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے ترمیم کے حوالے سے صرف آرٹیکل 243 میں تبدیلی منظور کی ہے اور باقی نکات مسترد کر دیے ہیں۔

آئین میں 27 ویں ترمیم کے معاملے پر سینٹ میں آج اجلاس بھی موخر کر دیا گیا ہے۔

Scroll to Top