غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کی حوالگی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس نے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے کی، جسے اسرائیلی فوج نے ریڈ کراس کے ذریعے وصول کرنے کی تصدیق کی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق لاش کو شناخت کے لیے فارنزک انسٹیٹیوٹ منتقل کیا گیا ہے اور شناخت کے بعد یرغمالی کے اہل خانہ سے رابطہ کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق حماس کے پاس مجموعی طور پر 28 یرغمالیوں کی لاشیں تھیں، جن میں سے اب تک 23 لاشیں اسرائیل کے حوالے کی جا چکی ہیں۔
حماس نے اعلان کیا ہے کہ باقی 5 یرغمالیوں کی لاشیں بھی جلد اسرائیل کے حوالے کی جائیں گی۔
یہ اقدام دونوں طرف سے جنگ بندی معاہدے کی عمل درآمد کے تحت کیا جا رہا ہے اور خطے میں اس سے انسانی ہمدردی کی فضا مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ امن معاہدے کے مطابق حماس نے مزید 3 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دیں
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ امن معاہدے کے تحت مزید 3 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ریڈ کراس کے ذریعے لاشیں وصول کرنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق انہیں شناخت کے لیے تل ابیب کے ابوکبیر فرانزک انسٹی ٹیوٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔
قبل ازیں حماس نے 17 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کو سپرد کر دی تھیں، جس کے بعد مجموعی طور پر 20 لاشیں اسرائیلی حکام کے حوالے کی جا چکی ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے پاس اب بھی 8 یرغمالیوں کی لاشیں موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حماس نے دونوں یرغمالیوں کی لاشوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا جنہوں نے لاشیں غزہ میں موجود اسرائیلی فوج کے سپرد کیں۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ایک مختصر بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں سے متعلق اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔





