این سی سی آئی سائبر کرائم ونگ نے مساجد کے خلاف توہین آمیز گفتگو کرنے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی ہے۔
حکام کے مطابق مقدمہ متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
پختون ڈیجیٹل کے پاس دستیاب ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق یہ ایف آئی آر اسلام آباد کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تفتیش نمبر 2287/2025 کے اختتام پر درج کی گئی۔
تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم محمد سہیل، ولد محمد ستار، دیگر افراد کے ساتھ مل کر جان بوجھ کر اور دانستہ ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹے، گمراہ کن اور توہین آمیز بیانات سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلا رہا تھا۔
این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ بیانات، جو مبینہ طور پر اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران دیے گئے، توہین آمیز، بد زبان، جھوٹے اور بے بنیاد قرار دیے گئے اور ریاستی اداروں کی بدنامی کے لیے دئیے گئے تھے۔
این سی سی آئی کے مطابق یہ بیانات عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے، نفرت بھڑکانے، انتشار پھیلانے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش تھے۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم جھوٹے اور گمراہ کن مواد کی تیاری، اشاعت، شیئرنگ اور گردش میں بھی ملوث تھا، جس کا مقصد تشدد بھڑکانا اور ریاست مخالف جذبات کو فروغ دینا تھا۔
یہ مقدمہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (PECA) 2016 کی دفعات 11، 20، اور 26-A کے تحت درج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فواد چوہدری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر برس پڑے
تفتیش سب انسپکٹر وسیم خان، سی سی آر سی، این سی سی آئی اے اسلام آباد کو متعلقہ حکام کی منظوری کے ساتھ سونپی گئی ہے۔
این سی سی آئی نے کہا ہے کہ ملک میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے ہر قسم کے مواد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔





