وزیراعظم ہاؤس میں اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے شرکت کا فیصلہ کر لیا۔
وزیراعظم کی جانب سے تحفظات حل کرنے کی یقین دہانی پر عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی ہدایت اللّٰہ وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے
عشائیے کا انعقاد اتحادی جماعتوں کے درمیان روابط مضبوط کرنے اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے وزیراعظم کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کو مجوزہ آئینی ترامیم کے بعض نکات پر تحفظات ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت نے مشاورت کے بعد عشائیے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹ میں 3 ارکان ہیں، جو پارلیمانی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اے این پی کا مؤقف ہے کہ آئینی ترامیم پر مکمل اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا جانا چاہیے۔
پارلیمنٹ کی قانون و انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی جانب سے خیبرپختونخوا کے نام کی تبدیلی کی تجویز پر مزید مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے اس معاملے پر کل تک اضافی وقت مانگا ہے تاکہ تمام قانونی اور آئینی پہلوؤں پر غور کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:عوامی نیشنل پارٹی کا وزیراعظم کے عشائیے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ
اسی اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کی تجویز پر بھی مزید مشاورت کا فیصلہ کیا گیا، اور اس معاملے پر بھی حکومت نے کل تک کا وقت طلب کیا ہے، کمیٹی ذرائع نے بتایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں دیگر تمام امور پر اتفاق رائے قائم ہے۔ اجلاس کا آج دوسرا مرحلہ ہوا، جو وقفے کے بعد سہ پہر تین بجے دوبارہ شروع ہوا۔





