اسلام آباد: اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کی کچہری کے باہر خودکش حملہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے، لیکن حکومت کی تمام تر توجہ مخالفین کے خلاف مقدمات بنانے پر مرکوز ہے۔
ان کے مطابق حکومت اپنے بنیادی فرائض بھول چکی ہے اور کسی حکومتی عہدیدار نے جوڈیشل کمپلیکس جا کر صورتِ حال کا جائزہ تک نہیں لیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد دھماکے کے شہداء اور زخمیوں کے لیے فوری مالی امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے اور سیکیورٹی حکمت عملی اس انداز سے ترتیب دی جائے کہ وکلاء اور شہری خوف کے بغیر معمول کی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی ناکامی قرار دیا۔
بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے عدالتی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، اسی لیے تحریک انصاف نے فیصلہ کیا ہے کہ 27ویں ترمیم کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔
جمعے کے روز ہم آئینی و قانونی احتجاج کریں گے اور توقع ہے کہ تمام حلقے اس میں ساتھ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : تناؤ کے ماحول میں امید کی کرن:پاک بھارت ویمن کرکٹرز نے ہاتھ ملا کر کھیل کی روح تازہ کر دی
اسی دوران انہوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے شکوہ بھی کیا کہ دونوں جماعتوں سے یہ امید تھی کہ وہ بھٹو کے آئین اور ووٹ کی حرمت کے بیانیے پر ڈٹیں گی، مگر وہ بھی سمجھوتے کی راہ پر چل پڑیں۔
سابق اسپیکر نے آخر میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سے متعلق جھوٹے پروپیگنڈے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ اس منفی مہم کو فوری طور پر روکا جائے۔





