پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی )کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پارٹی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ اور پارٹی کی کورکمیٹی کی رکن سینیٹر مشال یوسفزئی کےدرمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان بحث نےنہ صرف اجلاس کے ماحول کو کشیدہ کر دیا بلکہ پارٹی کے اندر پہلے سے موجود اختلافات کو مزید واضح کر دیاہے۔
اجلاس کے دوران مشال یوسفزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا اصل پیغام درست اور مکمل انداز میں نہیں پہنچایا جا رہا جو ہدایات یا پیغامات پارٹی چیئرمین کی جانب سے آتے ہیں وہ میڈیا یا عوام تک ایسے نہیں پہنچتے جیسا کہ انہیں پہنچا یا جانا چاہیے۔
انہوں نےسلمان اکرم را جہ پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی پوزیشن اور بیانات کو مؤثر انداز میں سامنے نہیں لا رہے ۔
یہ بھی پڑھیں : گورنر راج کوئی نئی بات نہیں، وزیراعلیٰ کو مرعوب کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، شیخ وقاص اکرم
سلمان اکرم نے ان الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی محدود ہوتی ہے اور جو افراد ملاقات کرتے ہیں یا پیغام لاتے ہیں وہی اصل صورتحال پہنچاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت انہی رپورٹس پر انحصار کرتی ہے اور وہ خود پیغام میں کوئی تبدیلی نہیں کرتے انہوں نے مشال یوسفزئی کے اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ کہا جاتا ہے وہ پوری دیانتداری سے آگے منتقل کیا جاتا ہے۔
دونوں رہنمائوں میں تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد اجلاس کا ماحول مزید تناؤ کا شکار ہوگیا۔
مشال یوسفزئی نے اس معاملے پر کسی قسم کا مؤقف دینے سے گریز کیا۔انہوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ اس تنازعے پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آئے ہوں۔اس سے قبل بھی کئی رہنما پارٹی کے اندرونی معاملات پر ایک دوسرے سے اختلاف کرچکے ہیں۔





