اسلام آباد : وزیربرائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کا اختیار آئین میں موجود ہے، تاہم حکومت نے ابھی تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ پاکستان میں ماضی میں بھی مختلف مواقع پر گورنر راج لگ چکا ہے، یہ ایک قانونی اور آئینی عمل ہے، کسی قسم کا مارشل لا نہیں۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ اس وقت دہشت گردی کا سب سے بڑا دباؤ خیبر پختونخوا پر ہے، جبکہ وفاقی حکومت اور سیکیورٹی فورسز اس چیلنج سے نمٹنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا خیبر پختونخوا حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے یا نہیں، اور کیا وزیراعلیٰ صوبائی ایڈمنسٹریشن کو مؤثر انداز میں چلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کو مسئلے کا واحد حل سمجھ لینا درست نہیں۔ کیا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے علاوہ اس ملک میں کوئی اور مسئلہ باقی نہیں؟
انہوں نے کہا کہ افغانستان خود تسلیم کرتا ہے کہ دہشتگرد ان کی سرزمین پر موجود ہیں مگر تحریری طور پر ضمانت دینے سے گریزاں ہے، اور یہی دہشتگرد پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : جیل ملاقات قانونی مشاورت کے لیے ہوتی ہے، سازشوں کے لیے نہیں، عطا تارڑ
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ 26 نومبر کو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد پر حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی جس کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں تعطل آیا۔
تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ملاقاتیں جلد بحال ہو جائیں گی۔ آج ملاقات ہوگی یا نہیں، اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن بانی پی ٹی آئی سے ان کی ملاقات ضرور ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد باہر آکر زہریلے بیانات دیے جاتے ہیں، جبکہ بھارت پاکستان کے خلاف ہر موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے سیاست کو سیاست تک محدود رکھا جائے۔





