اسلام آباد: وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ نوازشریف ملک کے سینئر ترین سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ وہی بات کرتے ہیں جسے درست سمجھتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ تمام آئینی اور قانونی ترامیم نوازشریف کی مشاورت سے ہوئی ہیں اور چیف آف دی ڈیفنس فورسز (CDF) کے نوٹیفکیشن پر کسی قسم کا اختلاف موجود نہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا عہدہ ختم ہونے کے روز نوٹیفکیشن لازمی نہیں تھا، کیونکہ یہ ایک نیا عہدہ اور نیا ادارہ ہے جس کے لیے آئینی ترمیم کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ CDF کے نوٹیفکیشن پر اختلاف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ چیف آف دی ڈیفنس فورسز کی سفارش پر ہی وائس چیف آف آرمی اسٹاف تعینات ہوگا، جبکہ نوٹیفکیشن سے متعلق حتمی بات وزیراعظم آفس ہی کرسکتا ہے۔
رانا ثنااللہ نے امید ظاہر کی کہ آئندہ 2 سے 4 دن کے اندر CDF کا نوٹیفکیشن جاری ہو جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور سے باہر سفر کرنے والے خبردار: موٹروے ایم ون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند
رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت کسی قیدی کی فیملی اور وکلا سے ملاقات کی مخالفت نہیں کرتی، لیکن ان ملاقاتوں کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں انہی ملاقاتوں کے ذریعے بیرونی اخبارات میں مضامین شائع کرواتے رہے اور سابق امریکی صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے حوالے سے باتیں بھی کرتے رہے۔
مشیرِ وزیراعظم کے مطابق 26 نومبر کے احتجاج کی منصوبہ بندی بھی انہی ملاقاتوں کے ذریعے کی جانی تھی، اسی لیے 9 مئی اور 26 نومبر کے تناظر میں ملاقاتوں پر پابندی لگانا ضروری ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہن عظمیٰ خان کی ملاقات ہوئی، مگر بقول ان کے بانی پی ٹی آئی نے بہن کا حال تک نہیں پوچھا اور زیادہ گفتگو حکومت کے خلاف کی۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت ایسی ملاقاتوں کو سیاسی استعمال کی اجازت نہیں دے سکتی۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی خصوصی ٹیم امدادی سامان لے کر کولمبو پہنچ گئی
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ہر قسم کی سہولیات دی گئی ہیں، لیکن اگر وہ جیل کے اندر بیٹھ کر تحریک چلانے کی کوشش کریں گے تو حکومت جیل سپرنٹنڈنٹ سے وضاحت طلب کر سکتی ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ نوازشریف نے کبھی یہ نہیں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے، انہوں نے ہمیشہ مکافاتِ عمل کی بات کی ہے اور ملک کو آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم تین بار ایوان میں کھڑے ہو کر مذاکرات کی بات کر چکے ہیں، اور سیاسی ڈیڈلاک ہمیشہ ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ختم ہوتے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے زور دیا کہ سیاسی جنگ پاکستان کے اندر لڑی جائے، دشمن ممالک کی میڈیا یا پلیٹ فارم سے نہیں۔





