پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں سب سے زیادہ سمجھوتا عوام کے حق رائے دہی پر کیا گیا ہے، اور اگر عوام اپنے قومی و صوبائی اسمبلی کے نمائندے منتخب نہیں کرسکتے تو وہ کس فورم پر جائیں؟
تفصیلات کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے بتایا کہ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ 20 اور 21 دسمبر کو ایک اہم قومی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ اس کانفرنس میں میڈیا نمائندگان، تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت، وکلا برادری، بار کونسلز اور جمہوریت پسند طبقات کو باضابطہ مدعو کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس قومی کانفرنس کا مقصد ملک کے موجودہ سیاسی، انتظامی اور جمہوری بحران سے نمٹنے کے لیے ایک متفقہ قومی ایجنڈا مرتب کرنا ہے، تاکہ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی عمل کو محدود کرنے اور انتخابی عمل پر قدغن لگانے سے عوامی مینڈیٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا’’اگر عوام اپنا قومی اور صوبائی اسمبلی کا نمائندہ منتخب نہیں کر سکتے تو وہ کہاں جائیں گے؟
اسد قیصر نے زور دیا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی، عدلیہ اور وکلا ایک صفحے پر آئیں اور سیاسی راستہ نکالیں۔اسد قیصر نے امید ظاہر کی کہ قومی کانفرنس مستقبل کے سیاسی راستے کا تعین کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔





