وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ترکمانستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی اور خوشگوار ملاقاتیں کیں۔
یہ ملاقاتیں بین الاقوامی سال برائے امن و اعتماد، عالمی دن برائے غیر جانبداری، اور ترکمانستان کی تیس سالہ مستقل غیر جانبداری کی سالگرہ کے موقع پر اشک آباد میں منعقدہ فورم کے دوران ہوئی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن، ترک صدر رجب طیب ایردوان، تاجکستان کے صدر امام علی رحمن اور کرغز صدر سادر جپاروف سے ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں عالمی قیادت کے ساتھ بات چیت اور تعلقات مضبوط کرنے کے موضوعات زیر بحث آئے۔
اس دورے کے دوران وزیرِ اعظم عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بنے رہے اور ان کی غیر رسمی ملاقاتیں باہمی تعلقات اور عالمی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی دکھائی دیں۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سراٹھا رہا ہے،عالمی برادری افغان حکومت پر دباؤ ڈالے، وزیراعظم
اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف نے ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کا نیا خطرہ سر اٹھا رہا ہے اور عالمی برادری کو افغان حکومت پر زور دینا چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
وزیراعظم نے کہا کہ تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے قطر، ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کے تعاون پر پاکستان مشکور ہے۔
شہبازشریف نے 2030 ایجنڈا کو عالمی ترقی کا جامع لائحہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن اور پائیدار ترقی لازم و ملزوم ہیں اور عالمی فورم کو اپنے منصوبوں کو عملی اقدامات میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے ترکمانستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکمان عوام کی مہمان نوازی اور سفید سنگ مرمر کی خوبصورتی قابل تعریف ہے۔
انہوں نے ترکمانستان کو اس کی مستقل غیر جانبداری کے 30 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی اور ترکمان قوم کے رہنماؤں کو بھائیوں کی طرح قرار دیا۔
شہباز شریف نے پاکستان کے ترقیاتی ماڈل کو عالمی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالیاتی شمولیت اور خواتین کو معاشی دھارے میں لانا ہماری ترجیح ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے موسمیاتی تبدیلی اور عدم مساوات کو ترقی پذیر ممالک کے بڑے چیلنجز قرار دیا اور عالمی برادری سے عملی اقدامات کی اپیل کی۔





