یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے نئے سال کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے عمل میں اب صرف 10 فیصد کا فاصلہ باقی رہ گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کا 90 فیصد حصہ تیار ہے اور یوکرین بھی جنگ ختم کرنے کا خواہاں ہے، تاہم وہ اپنے ملک کے خاتمے پر کسی بھی صورت راضی نہیں ہے۔
صدر زیلنسکی نے زور دیا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے مضبوط سکیورٹی ضمانتیں انتہائی ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں روس دوبارہ حملہ نہ کرسکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سب سے اہم مسائل ابھی حل طلب ہیں اور فریقین کے درمیان کئی اختلافات برقرار ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین اور روس امن معاہدے میں کچھ اہم علاقوں پر متفق نہیں ہیں۔ روسی فوج یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے اور وہ اس معاہدے کے تحت مشرقی ڈونباس پر مکمل کنٹرول کا مطالبہ کررہی ہے۔
صدر زیلنسکی کے مطابق یوکرین اس بات پر کاربند ہے کہ امن معاہدہ ملک کی خودمختاری اور سکیورٹی کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
ان کا کہنا تھا کہ یوکرین نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ معاہدہ عالمی قوانین، خطے میں امن اور انسانی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ نے شکاگو، لاس اینجلس اور پورٹ لینڈ سے نیشنل گارڈ واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا
جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکاگو، لاس اینجلس اور پورٹ لینڈ سے نیشنل گارڈز کو واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیشنل گارڈز کی موجودگی کے باعث ان شہروں میں جرائم میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر جرائم دوبارہ بڑھنے لگے تو وفاقی فورسز ان شہروں میں واپس آئیں گی، اور اس بار فورسز کی تعیناتی پہلے سے زیادہ سخت اور مضبوط شکل میں ہو سکتی ہے۔
کیلیفورنیا کے گورنر نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں وفاقی فورسز کی موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور صدر ٹرمپ اپنی اختیارات سے تجاوز کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے نیشنل گارڈز کی تعیناتی کا اعلان گزشتہ سال جون میں کیا تھا، لیکن اس تعیناتی کو متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے باعث اس کے نفاذ میں رکاوٹیں آئیں۔
نیشنل گارڈز کی واپسی شہریوں اور مقامی حکام کے درمیان اختلافات کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ جرائم کے سدباب اور مقامی انتظامیہ کی ذمہ داریوں پر بحث جاری ہے۔





