ایف آئی اے کے19افسران اور اہلکاروں کو سزائیں

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے محکمانہ احتساب کے تحت کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غفلت میں ملوث 19 افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سخت سزائیں دی ہیں۔

انسپکٹر ماریہ نیاز کو غیر قانونی طور پر سرکاری رہائش گاہ پر قبضہ کرنے اور غیر حاضری کے الزامات کی بنا پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ سب انسپکٹر کاشف ریاض اعوان کو غیر قانونی اعضاء فروشی میں ملوث گروہ کو تحفظ دینے کے الزام میں برطرف کیا گیا۔

سب انسپکٹر تصدق حسین اور سب انسپکٹر احمد وقار غیر قانونی چھاپے اور ناقص انکوائری کے الزامات میں ملازمت سے برطرف ہوئے جبکہ کانسٹیبل آصف اللہ دتہ کو غیر قانونی چھاپہ مارنے اور بھتہ خوری کے الزام میں برطرف کیا گیا۔

ٹیکنیکل اسسٹنٹ عنایت اللہ کو غیر ذمہ داری اور غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس کے الزامات پر برطرف کیا گیا۔ انسپکٹر محمد ارسلان مسعود خان اور انسپکٹر ادریس خان کو انکوائری میں رشوت طلب کرنے پر پے اسکیل میں تنزلی کی سزا سنائی گئی۔

دفتری کوتاہی کرنے پر سب انسپکٹر سہیل احمد کی ترقی ایک سال کے لیے روکی گئی۔ سب انسپکٹر شاذمہ شبیر، شابانہ شمشیر، عمر فاروق اور اے ایس آئی فرحان اصرار کو غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس پر دو سال کے لیے انکریمنٹ روکے جانے کی سزا دی گئی۔

اسی طرح کانسٹیبل محمد شاکر، محمد آصف، محمد زاہد اقبال، مدثر سعید اور عدیل احمد کو ایک سال کے لیے انکریمنٹ روکنے کی سزا سنائی گئی۔ٹیکنیکل اسسٹنٹ غلام خان کو دفتری احکامات پر عمل نہ کرنے پر سزائے تنبیہ دی گئی۔

ایف آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ محکمانہ احتساب کا مقصد ادارے میں شفافیت، دیانتداری اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنا ہے، اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ غفلت برتنے والے افسران کو سزا دی جارہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top