کراچی میں احتجاج کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن مشتعل ہو گئے اور انہوں نے صحافیوں کو بھی نہیں بخشا۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے مختلف مقامات پر پولیس اور میڈیا نمائندوں پر پتھراؤ کیا۔
پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پتھراؤ کے نتیجے میں ڈی ایس این جی کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ ایک ڈرائیور کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
گرومندر کے قریب آج نیوز کی گاڑی کو نذر آتش کرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، واقعے کے دوران خاتون رپورٹر حمنہ زخمی ہو گئیں جبکہ گاڑی کے ڈرائیور کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا، زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر ابتدائی پولیس کارروائی سے متعلق تفصیلات پیش کریں۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ شرپسند عناصر کو آڑے ہاتھوں لیا جائے اور کسی کو بھی امن و امان کی صورتحال سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، پی ٹی آئی کا باغ جناح میں جلسہ، کارکنان کا پتھراؤ، 2 اہلکار زخمی
ضیاء الحسن لنجار نے ہدایت کی کہ جدید مانیٹرنگ نظام کے ذریعے شرپسندوں کی نشاندہی کر کے انہیں فوری گرفتار کیا جائے، جبکہ پولیس نگرانی اور مانیٹرنگ کے عمل کو مزید سخت کرے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واضح کیا کہ حکومت امن کی خواہاں ہے اور امن کے قدردان شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔





