ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 24 گھنٹوں میں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز جواد طارق عدالت میں پیش ہوئے، ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود ان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا۔
جج نے ملزمان کی عدم پیشی پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان سمندر پر ہوں یا آسمان پر انہیں گرفتار کر کے پیش کیا جائے، عدالت کو ہر صورت وارنٹ کی تعمیل چاہیے۔
عدالت نے کہا کہ اگر وارنٹ پر عمل نہ ہوا تو توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے گی، عدالت نے ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا، سماعت کے دوران این سی سی آئی اے پراسیکیوٹر پیش ہوئے، تاہم ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں حاضر نہ ہوئے۔
سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئیں تاہم وہ ایڈریس پر موجود نہیں تھے اور جان بوجھ کر روپوش ہیں۔
جج افضل مجوکہ نے پولیس کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر اسلام آباد میں گرفتاری ممکن نہیں تو دیگر صوبوں میں کیا ہوگا۔
عدالت نے پراسیکیوٹر کی عدم حاضری پر بھی برہمی ظاہر کی اور ہدایت دی کہ وارنٹ گرفتاری پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹریاسمین راشد کا 9 مئی مقدمات میں سزاؤں کیخلاف عدالت سے رجوع
عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز کو ایس پی لیول کے افسر کی نگرانی میں گرفتاری یقینی بنانے کا حکم دیا اور 24 گھنٹوں کی مہلت دی۔ کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔





