شیراز احمد شیرازی
اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اختلافات اور احتجاج کے بعد سینیٹر زرقہ سہرودی نے اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔
زرقہ نے پختون ڈیجیٹل سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ پارٹی نے انہیں شوکاز نوٹس دیا اور پھر انٹرویو کے لیے بلایا، جبکہ پارٹی قیادت نے بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت بھی دی۔
سینیٹر زرقہ کا کہنا تھا کہ یہ اچھا ہوا کہ سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، اب پارٹی ہمارے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ پارٹی فیصلہ کرے ہمیں رکھنا ہے یا نہیں، ہمیں کروڑوں کی آفرز ہوئیں جنہیں ہم نے ٹکرایا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات پر بات کرنا مناسب نہیں، اور شاید یہ موقف شاہد خٹک سے متعلق ہو۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران ارکان سینیٹ اور قومی اسمبلی نے بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کے رویے پر احتجاج کیا۔ ارکان کا موقف تھا کہ اگر یہ پارلیمانی پارٹی اجلاس نہیں چلا سکتے تو پھر انہیں بلانے کی ضرورت نہیں۔
شاہد خٹک کے رویے کے باعث ارکان پارلیمنٹ نے بانی چیئرمین کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے اختلافات اور اجلاس میں ہونے والے احتجاج کو واضح کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی پارلیمانی اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین ایک دوسرے سے الجھ پڑے
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں جھگڑا، اراکین ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔ سینیٹر زرقہ کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت پر شاہد خٹک سیخ پا ہوگئے۔
شاہد خٹک نے سینیٹر زرقہ سے کہا کہ آپ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کیوں آئی ہیں؟ آپ نے 26ویں ترمیم میں ووٹ بیچا ہے، آپ پی ٹی آئی کا حصہ نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے ضمیر کا سودا کیا ہے، میں آپ کے ساتھ ہرگز نہیں بیٹھوں گا۔ اجلاس میں یا تو سینیٹر زرقہ ہوگی یا میں، یہ بھی شاہد خٹک نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہاں کانفیڈنشل باتیں کرتے ہیں، یہ لوگ یہاں نہیں ہونے چاہیے۔ جن لوگوں نے ووٹ دیا ہے، ان کا فیصلہ بانی چیئرمین کریں گے، یہ ہمارے بیچ نہیں بیٹھ سکتے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران شاہد خٹک نے سلمان اکرم راجہ سے بھی مکالمہ کیا اور پوچھا کہ 9 مئی کے بعد سینیٹر فوزیہ ارشد نے مذمتی بیان دیا تھا، آپ نے اسے پولٹیکل کمیٹی میں کیوں شامل کیا؟
شاہد خٹک اجلاس چھوڑ کر باہر آگئے اور ان کے ساتھ کئی اراکین بھی باہر آگئے۔ اس کے بعد پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کینسل ہوگیا۔





