اندھیرا، دھواں اور بند دروازے: گل پلازہ میں آگ کیسے ایک المناک سانحے میں بدل گئی؟

کراچی : ایم اے جناح روڈ پر واقع شاپنگ مال گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے دل دہلا دینے والا سانحہ جنم دیا، جس میں اب تک 26 افراد ہلاک اور 76 لاپتا ہیں۔

متاثرہ دکانداروں کے مطابق سانحہ کی وجہ ناقص انتظامات اور ایمرجنسی کے مواقع کی کمی تھی۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ عمارت میں مجموعی طور پر 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں، مگر رات دس بجے تقریباً تمام گیٹ بند کر دیے جاتے ہیں اور صرف دو دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں۔

المناک سانحے کے وقت موجود لوگوں کو معمول کے مطابق 24 دروازے بند ملے، اور کوئی ایمرجنسی ایگزٹ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے باعث آگ انتہائی تیزی سے پھیل گئی اور پوری مارکیٹ دھوئیں سے بھر گئی۔

دکانداروں نے بتایا کہ آگ لگنے کے وقت بجلی بند تھی، دھواں اتنا زیادہ تھا کہ لوگوں کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، نہ نظر آ رہا تھا اور بھگدڑ مچ گئی تھی۔

دھوئیں کی وجہ سے محصور افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعے کے وقت دکانوں پر ورکرز اور گاہک موجود تھے، جن میں سے بہت سے افراد بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات، سینیٹر زرقہ کا موقف سامنے آ گیا

دکانداروں کے مطابق انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت متعدد افراد کو عمارت سے باہر نکالا۔ آگ بجھنے کے بعد ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

یہ سانحہ گل پلازہ انتظامات کی کمی اور حفاظتی اقدامات کے فقدان کی سنگین مثال کے طور پر سامنے آیا ہے، اور اب تک 26 افراد ہلاک جبکہ 76 افراد لاپتا ہیں۔

مقامی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

Scroll to Top