غزہ امن بورڈ میں ایک اور اہم پیش رفت، بحرین نے امریکی دعوت قبول کر لی

واشنگٹن: متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین نے بھی غزہ کے لیے قائم کیے گئے امریکی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔

بحرینی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا کی جانب سے دی گئی دعوت کو شاہِ بحرین حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے۔

بحرینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق بحرین کو امید ہے کہ بورڈ آف پیس اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا، جن میں باہمی تعاون کا فروغ، خطے میں استحکام کی حمایت اور سب کے لیے ترقی و خوشحالی کا حصول شامل ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا دنیا بھر کے مختلف رہنماؤں پر زور دے رہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس امن بورڈ کا حصہ بنیں۔

رپورٹ کے مطابق بورڈ میں مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ملاقاتیں اور مذاکرات تب ہی ممکن جب اپوزیشن وزیر اعظم کی آفر قبول کرے ، رانا ثناء

خبر رساں ایجنسی کے مطابق بورڈ کے چارٹر میں واضح کیا گیا ہے کہ رکن ممالک کی مدتِ رکنیت زیادہ سے زیادہ تین سال ہوگی، جبکہ مدت میں توسیع چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہوگی۔

اگرچہ ابتدائی طور پر اس بورڈ کا مقصد غزہ کی بحالی کے امور کی نگرانی بتایا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں اس کے دائرۂ کار کو صرف غزہ تک محدود نہیں رکھا گیا، جس سے اس کے وسیع تر علاقائی کردار کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان بھی امریکی صدر کی جانب سے پیش کی گئی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر چکے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو بھی اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

Scroll to Top