عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی سہولتکاری کے جرم میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید اور ان کے ٹولے کو عبرتناک سزا دی جائے۔
چارسدہ میں باچا خان اور ولی خان کی برسی کی مناسبت سے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیراعلیٰ کی مرضی کے بغیر صوبے میں آپریشن ہو رہا ہو؟ اگر وزیراعلیٰ واقعی اتنے ہی بے اختیار ہیں تو انہیں اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ ضلعی انتظامیہ صوبائی حکومت کے ماتحت ہوتی ہے، اگر آپریشن میں صوبائی حکومت کی رضامندی شامل نہیں تو پھر ضلعی انتظامیہ تیراہ میں عوام کو گھروں سے کیوں بیدخل کر رہی ہے؟
میاں افتخار حسین نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں مذاکرات اور آپریشن دونوں کی اونرشپ لی تھی۔ ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانوں کے نذرانے دیے، لیکن کبھی دہشتگردوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ریاست کی داخلہ اور خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی نہیں لائی جاتی، دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ گڈ اور بیڈ طالبان کی تفریق ہر صورت ختم کرنا ہوگی، کیونکہ دہشتگرد بیک وقت اچھے اور برے نہیں ہو سکتے۔
میاں افتخارحسین نے کہاکہ جنرل فیض اور عمران ٹولے نے پختونخوا میں چالیس ہزار دہشتگردوں کی آبادکاری کی، جبکہ نیشنل ایکشن پلان میں دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کی سزائیں بالکل واضح طور پر درج ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں کی سہولتکاری کے جرم میں جنرل فیض اور ان کے ٹولے کو عبرتناک سزا دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی نااہلی کے باعث پختونخوا میں نوجوانوں کے لیے مواقع محدود ہو چکے ہیں۔ دہشتگردی نے صوبے میں تجارت اور کاروبار کو تباہ کر دیا ہے، طلبہ یونینز پر پابندی کے باعث نئی نوجوان قیادت سامنے نہیں آ رہی، اور بدانتظامی کا عالم یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں اساتذہ کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی وسائل میسر نہیں۔
باچا خان کے فلسفے پر بات کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ فخرِ افغان باچا خان کا فلسفہ اور نظریہ ہماری تحریک اور جدوجہد کی بنیاد ہے۔ باچا خان نے پختون قوم کو تشدد کے مقابلے میں عدم تشدد کے فلسفے سے روشناس کرایا، شعور کی بیداری کے لیے پورے پختونخوا میں آزاد مدرسوں کی بنیاد رکھی، انگریز کے ظلم و جبر کا مقابلہ کیا اور پختونوں کے حقوق کی خاطر بے شمار تکالیف برداشت کیں۔ پاکستان بننے کے بعد خدائی خدمتگاروں کی حکومت کا خاتمہ جمہوریت پر پہلا حملہ تھا، مگر تمام سازشوں کے باوجود خدائی خدمتگاروں کے پیروکار آج بھی میدان میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خان عبدالولی خان کی قیادت میں نیشنل عوامی پارٹی نے آمریت کے خلاف جمہوریت کی تاریخی جدوجہد کی۔ بطور اپوزیشن لیڈر ولی خان کا کردار پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بے مثال ہے۔ آج سب تسلیم کر رہے ہیں کہ اگر ان عظیم رہنماؤں کے نظریات پر عمل کیا جاتا تو پاکستان موجودہ بحرانوں سے دوچار نہ ہوتا۔ ولی خان نے 1973 کے آئین میں صوبائی خودمختاری کی بنیاد رکھی اور سیاست کو ذاتی مفادات کی بجائے عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ اسفندیار ولی خان نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی صورت میں باچا خان اور ولی خان کے خوابوں کو عملی شکل دی۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اے این پی کو “غیر مقبول” کرنے کی کوششیں ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ باچا خان اور ولی خان سے لے کر اسفندیار ولی خان اور آج ایمل ولی خان تک، ہمارے خلاف سازشوں کا ایک طویل سلسلہ جاری رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سازشیں کرنے والے خود تاریخ کا حصہ بن گئے، لیکن عوامی نیشنل پارٹی آج بھی میدان میں موجود ہے۔ جو لوگ ہمیں ختم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، وہ پچھلے سو سال بھی ناکام رہے اور آئندہ سو سال بھی ناکام ہی رہیں گے۔
امیر حیدر خان ہوتی نے واضح کیا کہ ہم نہ تو کبھی فیضیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی فارم 47 جیسی سہولتوں سے مستفید ہوئے ہیں۔ ہم اقتدار میں ہوں یا نہ ہوں، پختون قوم، امن اور اپنے حقوق کے لیے ہر صورت آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے پر مسلط حکمران پنجاب کے ایک ایس ایچ او تک کو جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں یونیورسٹیاں قائم کیں، جبکہ موجودہ مسلط حکومت انہی یونیورسٹیوں کی زمینیں فروخت کر رہی ہے۔ ہم نے قوم کے لیے کالجز تعمیر کیے، مگر آج انہیں نجی تحویل میں دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہم قوم کو امن اور محبت کا پیغام دے رہے تھے، جبکہ موجودہ حکمران تشدد، نفرت اور انتشار کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ لوگ قوم کے بچوں کو اپنی ذاتی سیاست اور مفادات کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔
امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ گزشتہ 13 سالوں میں ان حکمرانوں نے انتشار اور تشدد کے سوا کچھ نہیں دیا، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے شدید مشکلات کے باوجود ریکارڈ ترقیاتی منصوبے مکمل کیے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر تین تین مریض پڑے ہیں، آئی سی یو بیڈز تک دستیاب نہیں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سے سوال کیا کہ محکمہ صحت آپ کے اختیار میں ہے یا نوشیروان برکی کے؟ انہوں نے یاد دلایا کہ اے این پی کے دور میں پشاور، مردان اور چارسدہ میں بچوں کے ہسپتالوں کا آغاز کیا گیا، مگر پچھلے 13 سالوں میں موجودہ حکومت انہیں مکمل کرنے میں بھی ناکام رہی۔
انہوں نے کہا کہ ان نااہل اور غیر سنجیدہ حکمرانوں کی وجہ سے صوبہ ترقی کے سفر سے محروم ہو چکا ہے، اور اب صوبے کے عوام بالخصوص نوجوانوں پر ان کی نااہلی پوری طرح آشکار ہو چکی ہے۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ آئیں عہد کریں کہ ہم ہر پختون کے پاس جرگہ لے کر جائیں گے اور قوم کو شعور، امن، تعلیم اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔
امیر حیدر خان ہوتی نے بابڑہ کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 70 سال قبل قیوم خان نے خدائی خدمتگاروں کا قتلِ عام کیا، مگر خدائی خدمتگاروں کے وارث آج بھی اسی میدان میں ثابت قدمی اور وقار کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ جہاں بھی عزت، غیرت اور اصولوں کی بات ہوتی ہے، مخالفین بھی ہماری مثال دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ ہم عہدوں اور حکومت کے شوقین نہیں۔ ہماری سیاست اقتدار کی محتاج نہیں، ہم اپنے عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں، اور عوام کے حقوق و امن کے بدلے کرسی اور حکومت ہمارے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔





