چارسدہ: چارسدہ میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حیدر خان ہوتی نے پارٹی کے خلاف ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی) کو غیر مقبول بنانے کی کوشش کرنے والوں کو آج کے جلسے کے ذریعے واضح جواب مل چکا ہے۔
چارسدہ میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اے این پی عوام میں مقبول نہیں، بلکہ آج کا اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ پختون قوم آج بھی اپنی جماعت کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ پارٹی کو درپیش کچھ مسائل موجود ہیں اور بعض معاملات، جیسے فارم 47، ابھی مکمل نہیں ہو سکے، تاہم اس کے باوجود اے این پی اسمبلی کے اندر اور باہر پختون قوم کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔
سابق وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وزیراعلیٰ تین ماہ گزرنے کے باوجود پنجاب کے ایک ایس ایچ او کے خلاف مؤثر جواب دینے میں ناکام رہے ہیں، جبکہ اے این پی کے دور حکومت میں صوبے میں یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، مگر موجودہ حکومت ان تعلیمی اداروں کی زمینیں فروخت کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے سرکاری اسپتالوں کی حالت بھی تشویشناک ہے، جہاں مریضوں کے لیے بیڈز تک دستیاب نہیں، جبکہ گزشتہ 13 برسوں میں شروع کیے گئے متعدد ترقیاتی منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں : ڈیرہ اسماعیل خان،شادی کی تقریب میں افسوسناک واقعہ
حیدر خان ہوتی نے کہا کہ آج خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا کی 38 ویں اور خان عبد الولی خان کی 20 ویں برسی کے موقع پر ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ پختون قوم سے چھینا گیا شعور واپس دلائیں گے، امن قائم کریں گے اور اپنے عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ عوامی نیشنل پارٹی کا ساتھ دیں تاکہ ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جا سکیں اور پختون قوم کے حقوق، شناخت اور ثقافت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔





