اسلام آباد: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آئی سی سی کے چیئرمین جلد باضابطہ اعلان کریں گے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب بنگلا دیش نے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے بھارت جانے سے انکار کر دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے آئی سی سی کو ٹی20 ورلڈ کپ کے معاملے پر ایک اور خط لکھ کر اپنی پوزیشن واضح کی۔
بی سی بی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی انڈیپنڈنٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کو بھی مطلع کیا کہ بنگلا دیش اپنی ٹیم بھارت نہیں بھیجے گا۔
ذرائع کے مطابق بی سی بی نے کل کے فیصلے کی روشنی میں آئی سی سی سے دوبارہ رابطہ کیا اور بھارت نہ جانے کے اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔
ساتھ ہی، بی سی بی نے درخواست کی ہے کہ بنگلا دیش کے میچز کو دوسرے مقام پر ری لوکیٹ کیا جائے۔
اس فیصلے کے بعد ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلا دیش کے میچز کی شیڈولنگ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، اور اس کا اثر گروپ میچز کی ترتیب پر بھی پڑ سکتا ہے۔
آئی سی سی کے اعلان کے بعد اس موقع پر اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کی شمولیت اور نئے شیڈول کی تفصیلات بھی سامنے آئیں گی۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت میں کھیلنے کا مؤقف بدل گیا؟ بنگلادیشی اسپورٹس ایڈوائزر نے حقیقت سامنے لا دی
یاد رہے کہ بنگلا دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل نے واضح کیا ہے کہ اگر آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) بھارتی دباؤ کے آگے جھکتی ہے اور بنگلا دیش پر غیر منطقی دباؤ ڈالا جاتا ہے تو یہ صورت حال ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔
آصف نذرل نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کے کہنے پر بنگلا دیش پر دباؤ ڈالنا قابل قبول نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں کھیلنے کے حوالے سے بنگلا دیش کا موقف مکمل طور پر واضح اور مستحکم ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ خبروں میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔
بنگلا دیش نے وینیو تبدیل کرنے کی بات حقیقی وجوہات کی بنیاد پر کی ہے، نہ کہ کسی دباؤ یا غیر منطقی مطالبے کے تحت۔
آصف نذرل نے کہا اگر آئی سی سی بھارتی دباؤ کے آگے جھکتی ہے اور بنگلا دیش پر دباؤ ڈالا جاتا ہے تو یہ ہرگز قبول نہیں ہوگا۔
بنگلا دیش نے ہمیشہ شفاف اور واضح موقف اختیار کیا ہے اور کرکٹ کے عالمی معیار اور اصولوں کے مطابق کھیلنا چاہتا ہے۔





