8 فروری! سرکاری وسائل کے غلط استعمال کو برداشت نہیں کیا جائیگا، اختیار ولی کا دوٹوک پیغام

8 فروری! سرکاری وسائل کے غلط استعمال کو برداشت نہیں کیا جائیگا، اختیار ولی کا دوٹوک پیغام

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے 8 فروری کو پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی کال کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے یا ریاستی نظام مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اختیار ولی خان نے الزام لگایا کہ صوبے میں سرکاری وسائل، فنڈز اور مشینری کو منظم انداز میں ریاست کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ مخصوص سیاسی طبقہ حکومتی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کی زندگیوں میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے بھی ملک کو جام کرنے کی کوشش کی تو نتائج مختلف ہوں گے اور عوامی طاقت سے سڑکیں کھلوائی جائیں گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے عوام سے اپیل کی کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے وزرا، مشیران، ارکانِ اسمبلی یا پارٹی عہدیداران نے ریاستی نظام مفلوج کرنے کی کوشش کی تو وہ خود ایسی کارروائیوں کو ناکام بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ جلسے اور جلوس ہر جماعت کا حق ہیں، لیکن سرکاری وسائل اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے سیاست چمکانا ناقابل قبول ہے۔

اختیار ولی خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حالیہ ہزارہ دورے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس دوران سرکاری گاڑیوں اور پٹرول کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس پر لاکھوں روپے خرچ ہوئے، جبکہ عوام کو بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہری پور، کانگڑا، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں عوامی دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی اور جلسوں میں لوگوں کو سرکاری وسائل کے ذریعے منتقل کیا گیا، جس سے عوام کے پیسوں کا کھلا ضیاع ہوا۔

انہوں نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت منشیات کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہے اور وادی تیراہ کے آپریشن کے نام پر 3 ارب روپے فوڈ اسٹریٹ موومنٹ کے لیے استعمال کیے گئے۔ اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا گزشتہ 13 برس سے مسلسل تباہی اور زوال کی طرف جا رہا ہے، اور موجودہ حکومت کے دور میں صوبے کے تمام ادارے سیاسی مداخلت کا شکار ہیں۔
انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ انتشار پر مبنی کال کو مشترکہ طور پر ناکام بنایا جائے، اور خود عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے تاکہ گمراہ کن سیاست کا حصہ بننے کی ضرورت نہ رہے۔

اختیار ولی خان کے مطابق، ایک وقت تھا جب خیبرپختونخوا ترقی کے سفر میں دوسرے نمبر پر تھا، لیکن آج صوبہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں بدترین درجہ بندی کی طرف جا چکا ہے، اور اس کی ذمہ داری موجودہ طرزِ حکمرانی پر عائد ہوتی ہے۔

Scroll to Top