اعتماد کی بحالی! سرمایہ کاروں کی نظریں پاکستان پر، 73 فیصد غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری کیلئے تیار

اعتماد کی بحالی! سرمایہ کاروں کی نظریں پاکستان پر، 73 فیصد غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری کیلئے تیار

بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی نگاہیں پاکستان پر، 73 فیصد کمپنیاں اب ملک کو ایف ڈی آئی کے لیے موزوں سمجھتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں میں سے 73 فیصد نے ملک کو براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) کے لیے موزوں قرار دیا ہے، جو 2023 میں 61 فیصد تھی۔ یہ بات جمعہ کے روز جاری ہونے والے ایک سروے میں سامنے آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول میں نمایاں بہتری آئی ہے، خاص طور پر 2022-23 کے غیر ملکی زر مبادلہ کے بحران کے بعد۔

یہ سروے Overseas Investors Chamber of Commerce and Industry (OICCI) نے 2025 کے لیے “Perception and Investment Survey” کے تحت کیا، جس میں ملک میں کام کرنے والی 200 سے زائد کثیر القومی کمپنیوں کے تاثرات شامل تھے۔ سروے کے مطابق میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری اور حالیہ پالیسی اصلاحات نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا شروع کر دیا ہے، تاہم سرمایہ کار اب بھی ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال اور بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت کے حوالے سے محتاط ہیں۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ:
“2025 کا Perception and Investment Survey پاکستان میں سرمایہ کاروں کے جذبات کی محتاط پرامیدی کی عکاسی کرتا ہے۔ میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری اور حالیہ پالیسی اصلاحات نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا شروع کر دیا ہے۔’’سروے کے مطابق، روپیہ کی قدر میں نسبتی استحکام اور بین الاقوامی ایجنسیوں کی جانب سے کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دیا ہے

اہم نتائج:
73 فیصد OICCI کے ممبران اب پاکستان کو FDI کے لیے موزوں سمجھتے ہیں، جو دو سال پہلے 61 فیصد تھی۔
غیر ملکی سرمایہ کاری میں معمولی بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم سرمایہ کار ابھی بھی چھوٹے پیمانے کی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ریگولیٹری اور ساختی چیلنجز بدستور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر انداز ہیں، جن میں ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر، قوانین کا غیر متوقع نفاذ، اور وفاقی و صوبائی سطح پر کمزور تعاون شامل ہیں۔
سرمایہ کاری کی لاگت میں اضافے کا مسئلہ بھی نمایاں ہے، جس میں توانائی کے اخراجات، اجرتیں اور خام مال کی قیمتیں شامل ہیں۔
سیاسی عدم استحکام، اچانک ریگولیٹری تبدیلیاں اور غیر واضح مالیاتی پالیسی سرمایہ کاروں کے خدشات میں شامل ہیں۔

سروے میں یہ بھی کہا گیا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں منفی رپورٹنگ سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے، اور اس کے پیش نظر بین الاقوامی سطح پر مثبت تصویر کشی اور مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت ہے۔

OICCI کے مطابق، اگرچہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہوا ہے، لیکن یہ اب بھی محتاط پرامیدی کی سطح تک محدود ہے اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے استحکام، شفافیت اور عالمی سطح پر مثبت تاثر ضروری ہے۔

Scroll to Top