معروف وکیل ایمان مزاری کے ریاست مخالف منتازعہ ٹویٹس کو بطور شواہد عدالت میں پیش کیا گیا۔
ان ٹوٹیس کی بنیاد پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آبادنےفیصلہ سناتے ہوئےایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو دس دس سا ل قید کی سزا سنائی ۔
آج کی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ ہائیکورٹ نے آج کے دن تک ملزمان کو گواہان پر جرح کا موقع دینے کا حکم دے رکھا تھاتاہم دونوں دیگر مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہونے کے باعث بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران پراسکیوشن کی جانب سے بیرسٹر فہد، عثمان رانا ایڈووکیٹ اور بیرسٹر منصور اعظم عدالت میں موجود تھے جبکہ ملزمان کی جانب سے اسٹیٹ کونسل تیمور جنجوعہ نے وکالت کی۔
پراسکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر پانچ گواہان پیش کیے گئے اور تیس صفحات سے زائد پر مشتمل چالان عدالت میں جمع کروایا گیا۔
استغاثہ کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر پی ٹی ایم اور دیگر کالعدم تنظیموں کا ایجنڈا پھیلانے کا الزام تھا اور ملزمان پر ریاستی اداروں کے خلاف مواد کی تشہیر کا بھی الزام عائد کیا گیا۔
پراسکیوشن نے چالان کے ساتھ ملزمان کی مختلف ٹویٹس بطور شواہد عدالت میں پیش کیں جبکہ ایمان مزاری کی ریاست مخالف تقریر بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی۔
ایمان مزاری کی طرف سے کی گئی ٹویٹس کی تفصیل درجہ زیل ہے ۔





