ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے متنازعہ ٹوٹیس کیس میں ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 17، 17 سال قید اور جرمانے کی سزا سنادی۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے 22 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
عدالت نے دونوں ملزمان کو سزا کے ساتھ مجموعی طور پر 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کو پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت 5، 5 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ، سیکشن 10 کے تحت 10، 10 سال قید اور 3 کروڑ جرمانہ جبکہ سیکشن 26 اے کے تحت 2، 2 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت نے پیکا ایکٹ کے سیکشن 11 میں دونوں ملزمان کو بری کریا جبکہ دیگر سیکشنز میں مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
آج کی سماعت کے موقع پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے عدالتی کارروائی میں شریک ہونے سے انکار کرتے ہوئے سماعت کا بائیکاٹ کیا۔ ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق آج کے دن تک ملزمان کو گواہان پر جرح کا موقع دیا گیا تھا، تاہم دونوں ملزمان دیگر مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہونے کے باعث بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران پراسکیوشن کی نمائندگی بیرسٹر فہد، عثمان رانا ایڈووکیٹ اور بیرسٹر منصور اعظم نے کی جبکہ ملزمان کی جانب سے اسٹیٹ کونسل تیمور جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے۔ پراسکیوشن کی جانب سے کیس میں مجموعی طور پر پانچ گواہان پیش کیے گئے اور تیس صفحات سے زائد پر مشتمل چالان عدالت کے روبرو رکھا گیا۔
استغاثہ کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر پی ٹی ایم اور دیگر کالعدم تنظیموں کے ایجنڈے کی تشہیر اور ریاستی اداروں کے خلاف مواد پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ چالان کے ساتھ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متعدد ٹویٹس بطور شواہد پیش کی گئیں جبکہ ایمان مزاری کی ایک ریاست مخالف تقریر بھی عدالتی ریکارڈ میں شامل کی گئی۔
عدالت نے دلائل اور دستیاب شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو17، 17سال قید کی سزا اور تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف 22 اگست 2025 کو ایف آئی آر نمبر 234/2025 کے تحت پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 9، 10، 11 اور 26-A کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزمان کو ابتدا میں گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ انہیں غیر معمولی رعایت دی گئی۔ پیشگی ضمانت کے بعد ملزمان کی جانب سے عدالتی کارروائی کا مذاق اڑایا گیا، میڈیا پر بیانات دیے گئے اور بار بار عدالتی پیشیوں سے گریز کیا گیا۔
پانچ ماہ کے دوران کیس کی 44 سماعتیں ہوئیں جبکہ مقدمہ 104 مرتبہ پکارا گیا، جن میں سے 53 مواقع پر ملزمان غیر حاضر رہے۔ اس دوران سات مرتبہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے جو بار بار واپس بھی لیے گئے۔
عدالت کی جانب سے غیر معمولی برداشت کا مظاہرہ کیا گیا تاہم ملزمان کی جانب سے جان بوجھ کر عدالتی کارروائی میں رکاوٹیں ڈالنے کے باعث بالآخر عدم حاضری پر ضمانت منسوخ کرتے ہوئے وارنٹ جاری کیے گئے۔
ایمان مزاری کے سوشل میڈیا بیانات میں دہشت گرد تنظیم بی ایل اے اور دیگر ممنوعہ عناصر کی بالواسطہ حمایت، ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا، اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی بیانیہ، ریاست کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش، نسلی تقسیم اور خوف پھیلانے کی کوشش شامل ہے، جو پیکا ایکٹ کی دفعات 9 کے تحت جرم کی تمجید، دفعہ 10 کے تحت سائبر دہشت گردی، دفعہ 11 کے تحت نفرت انگیز تقریر اور دفعہ 26-A کے تحت جھوٹی خبر کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ کیس آزادیٔ اظہار کا نہیں بلکہ قانون، ریاست اور عدالتی عمل کو چیلنج کرنے کا معاملہ ہے اور اگر بیانات درست ہیں تو ان کا جواب عدالت میں دلائل کے ذریعے دیا جانا چاہیے نہ کہ تاخیری حربوں کے ذریعے۔





