افغانستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ تین روز کے دوران ہونے والی شدید برفباری اور موسلا دھار بارشوں نے تباہ کن صورتحال پیدا کر دی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 61 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 110 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
افغان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق خراب موسم کے باعث ملک کے 15 صوبے شدید متاثر ہوئے ہیں، جہاں 458 سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے۔ قدرتی آفات کے نتیجے میں سینکڑوں مویشی بھی ہلاک ہوئے، جس سے متاثرہ خاندانوں کو شدید معاشی نقصان پہنچا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں گھروں کی چھتیں گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کے واقعات کے باعث ہوئیں
شدید موسم نے افغانستان کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ اہم شاہراہیں بند ہونے کے باعث کئی دیہات اور قصبے دیگر علاقوں سے منقطع ہو گئے ہیں، جس سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
شمالی افغانستان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی سالانگ شاہراہ بھی شدید برفباری کے باعث بند ہو گئی ہے جہاں ہزاروں مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔
ادھر بعض صوبوں میں بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچنے کے باعث طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں خوراک اور طبی سہولیات کی فراہمی بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ امدادی ٹیمیں برف سے ڈھکے پہاڑی علاقوں میں پھنسے افراد تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں سے مزید اطلاعات موصول ہونے پر ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موسم بہتر ہونے تک محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔





