پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی رہنما شگفتہ ملک نے صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے دعوے صرف باتوں تک محدود رہ گئے ہیں، اور شہر میں نہ ترقی ہوئی، نہ ہی بلدیاتی نظام میں کوئی حقیقی تبدیلی آئی۔
شگفتہ ملک نے پختون ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں بارش کے بعد نکاسی کے ناقص نظام کی وجہ سے شہری گھروں میں محصور ہو جاتے ہیں۔
اسکول، کالجز، یونیورسٹیاں اور دفاتر متاثر ہوتے ہیں، اور شہری بنیادی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ٹی ایم اے موثر کام کرتا تھا، لیکن موجودہ حکومت ذمہ داری لینے کی بجائے محض دعوے کرتی ہے، جبکہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود شہر کا نکاسی کا نظام اب بھی ناکارہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پشاور کی بیوٹی فیکشن کی بجائے شہر گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے۔ پشاور کبھی گلونو خار کے نام سے مشہور تھا، اب بدقسمتی سے گندگی اور بنیادی مسائل کا شہر بن گیا ہے۔
شگفتہ ملک نے پی ٹی آئی کی بلین ٹری سونامی منصوبے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ یہ صرف خالی نعرے تھے، فنڈز بے دریغ ضائع کیے گئے اور کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوئی۔ شاید یہی اصل ‘سونامی’ تھی جو عوام کے پیسوں پر آئی ۔
صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے شگفتہ ملک نے کہا کہ مختلف محکمے جیسے ڈبلیو ایس ایس پی اور ٹی ایم اے محض تنخواہ لے رہے ہیں اور کام نہیں کر رہے۔ ان کے بقول ریسکیو ادارے بھی ذاتی اغراض اور احتجاج کے آلہ کار بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : وادی تیراہ کے آئی ڈی پیز کے فنڈز پی ٹی آئی کی اسٹریٹ موومنٹ کے لیے مختص کیے جانے کا دعویٰ
شگفتہ ملک نے کہا بی آر ٹی منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ جو کبھی کاروباری مرکز تھا، اب تنگ گلی میں بدل گیا ہے اور ٹریفک مزید بڑھ گئی ہے۔ بی آر ٹی پر جتنا خرچ کیا گیا، اتنے پیسوں سے تو پورا نیا شہر آباد کیا جا سکتا تھا۔
شگفتہ ملک نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا کو 13 سال میں مکمل طور پر خستہ حال کر دیا ہے۔ صحت اور تعلیم کے شعبے تباہ ہو چکے ہیں، دہشت گردی اور عدم تحفظ کا ماحول بڑھ گیا ہے، اور عوام کا سکون چھین لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے کوئی میگا منصوبہ پیش نہیں کیا گیا جبکہ پی ٹی آئی وفاق کے ساتھ جھگڑے اور صوبے میں بد امنی نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
شگفتہ ملک نے زور دے کر کہا کہ عوام کے ووٹ کا احترام کیا جانا چاہیے، اور پی ٹی آئی حکومت کو اپنے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا، ورنہ خیبر پختونخوا کے شہری مزید مشکلات کا شکار رہیں گے۔





