پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں افغان مہاجرین کے بچوں کو جاری کیے گئے برتھ سرٹیفیکیٹ کے حوالے سے تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں سینکڑوں افغان مہاجر بچوں کے سرٹیفیکیٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، تحقیقاتی رپورٹ اور سفارشات نادرا اور وزارت داخلہ کو بھجوا دی گئی ہیں تاکہ اس ضمن میں مزید قانونی اور انتظامی کارروائی کی جا سکے۔
تحقیقات کے دوران مختلف یونین کونسلز اور ویلج کونسلز میں افغان مہاجر بچوں کے سرٹیفیکیٹ کے اجرا میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس ضمن میں بعض افغان مہاجرین، جن میں کپڑوں کے کاروبار سے وابستہ افراد، چین سے کاروباری روابط رکھنے والے اور کچھ کوچی قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، کے خلاف کارروائی متوقع ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات کے نتیجے میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں 10 ویلج کونسلز کے سیکرٹریز کو معطل کیا گیا ہے، جبکہ درجنوں دیگر سیکرٹریز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بلدیاتی نمائندوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس مقصد کے لیے لوکل گورنمنٹ کمیشن میں کیسز بھیجنے کے لیے نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور شہر کے مختلف علاقوں میں جن افغان شہریوں کے بچوں کو برتھ سرٹیفیکیٹ جاری کیے گئے تھے، ان کی مکمل نشاندہی کر لی گئی ہے اور ان کے سرٹیفیکیٹ منسوخ کرنے کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
یہ اقدام افغان مہاجر بچوں کے سرکاری دستاویزات کے اجراء میں شفافیت کو یقینی بنانے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔





