عرفان خان
وادی تیراہ کے متاثرین نے صوبائی حکومت کے چار ارب روپے کے امدادی پیکج پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
متاثرین نے شفافیت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی امداد فراہم نہیں کی گئی۔
وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک کوئی مالی امداد نہیں ملی، جبکہ سیاسی بنیادوں پر وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے افراد کو پیسے دیے جا رہے ہیں۔ متاثرین کے مطابق سرکاری سطح پر چار ارب روپے میں غبن کیا گیا ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ بیمار اور سردی میں ٹھٹھرتے لوگ رجسٹریشن مراکز کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔
ایک متاثرہ خاندان نے بتایا کہ ان کے خاندان پر چار گاڑیوں میں نقل مکانی کے دوران ایک لاکھ چالیس ہزار روپے خرچ ہوئے مگر حکومت کی جانب سے امدادی رقم صفر ہے۔
متاثرین نے الزام عائد کیا کہ غیر متعلقہ افراد کو ٹوکن جاری کیے جا رہے ہیں جبکہ اصل متاثرین کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور مختلف بہانے بنائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری اہلکار یہ کہتے ہیں کہ سفارش ڈھونڈ لو، پھر کام ہو جائے گا۔
متاثرین کے مطابق نادرا کلیئرنس کے باوجود وہ ایک ایک پیسے کے منتظر ہیں۔ ثبوت موجود ہیں اور وہ اپنا مؤقف کسی بھی فورم پر پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔





